شیطان کے چیلے — Page 592
589 سے کوئی تضاد ہے جو کتاب ” چشمہ مسیحی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔ان چاروں کتابوں میں مختلف نقطہ نظر سے مضمون کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔ہر جگہ مضمون کا رخ الگ ہے اور زاویہ مختلف۔جس کو آپ نے صحیح موقع ومحل کے مطابق پیش فرمایا ہے۔ایک عبارت کے مخاطب اگر مسلمان ہیں تو دوسری کے عیسائی۔اس لئے در حقیقت ان میں کوئی تضاد نہیں اور کوئی اختلاف نہیں۔لیکن اگر کوئی الیاس ستار کی سیج نظر سے دیکھے اور اس کے کج دماغ سے سوچے تو ان عبارتوں میں تو کیا وہ ان آیات قرآنیہ میں بھی (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ ) اختلاف و تضاد کا شور مچادے گا جو ہم نے محض مسئلہ سمجھانے کی غرض سے نمونہ کے طور پر چند صفحات پہلے درج کی ہیں۔(1) کشمیر جانا تو بہت آسان ہے الیاس ستار نے اپنے ایک رسالہ میں بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی کتاب انجام آتھم کا حوالہ درج کیا ہے کہ پس اگر گمان میکنی که عیسی علیہ السلام تا این زمانه در آسمان زنده است پس از یس لازم می آید که اقرار کنی کہ نصاری ہم تا هنوز برحق اند نه از گمر اہاں (صفحہ 135) ترجمہ :۔پس اگر تو گمان یہ کرتا ہے۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس زمانہ تک آسمان پر زندہ ہیں۔تو پھر تجھے پر اس بات کا اقرار بھی لازم ہے۔کہ عیسائی ابھی تک حق پر قائم ہیں نہ کہ گمراہ۔اس کے بعد اس نے لکھا ہے۔کہ مرز اصاحب صاف طور پر کہہ رہے ہیں۔کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو پھر تو اس وقت تک عیسائی بھی نہیں بگڑے“ اس کے آگے اس نے بریکٹ میں یہ گرہ لگائی ہے۔کہ تو کشمیر تو آسمان کے مقابلہ میں بہت قریب ہے ) معزز قارئین ! خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ لوگ خود ہی کشمیر کی طرف آگئے ہیں۔ان کو یہ سمجھاتے سمجھاتے ہمیں تو