شیطان کے چیلے — Page 547
543 مذہب کو آڑ بنا کر ہر قسم کا فریب دیتے ہیں اور ہر قسم کا جھوٹ بکتے چلتے جاتے ہیں۔حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھائی کا نام مرزا عزیز احمد نہیں ہے۔اور یہ ان کے جھوٹ پر ایک اور مہر ہے۔باقی رہا، جنرل ضیاء الحق کے قانون ، حضرت امام جماعت احمدیہ کی ہجرت اور اس کی برکت سے دنیا بھر میں جماعت احمد یہ کے ذریعہ سے اسلام کی خدمت کا سوال تو ہمیں اس بارہ میں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔اسرار احمد وڑائچ صاحب کی کتاب ” قادیانیت کا سیلاب اور ہماری حکمت عملی کا ایک باب ملاحظہ فرمائیں۔وو ” مرزا طاہر احمد کی لندن منتقلی ضیاء حکومت مرزا طاہر احمد کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اور اس کے لئے کسی بہانہ یا مناسب موقع کی تلاش تھی لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حکومت وقت اپنی کوشش اور خواہش کے باوجود مرزا طاہر احمد کوگرفتار نہ کر سکی اور جماعت احمدیہ کے سر براہ لندن چلے گئے۔قادیانی جماعت کی تاریخ میں مرزا طاہر احمد کا لندن چلے جانا بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ لندن منتقل ہونے کے بعد دنیا بھر میں جماعت احمد یہ بڑی مشہور ہوئی اور شاید اسی وجہ سے قادیانی جماعت ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی اور اس طرح مرزا طاہر احمد کو گرفتار کر کے قادیانی مسئلہ کے حل کا فیصلہ بھی وبال جان بن گیا۔جس فیصلے کے ذریعے قادیانیوں کی ترقی کو روکنا مقصود تھا وہ فیصلہ قادیانیوں کی ترقی کا باعث بن گیا۔چنانچہ مرزا طاہر احمد کے بقول میری لندن منتقلی کے دن سے لے کر 30 جولائی 95 ء تک 57 نئے ممالک میں جماعت احمدیہ کی شاخیں قائم ہوئیں۔یہ ہے نتیجہ مرزا طاہر احمد کی گرفتاری کے فیصلے کا۔اگر یہ فیصلہ نہ کیا گیا ہوتا اور مرزا طاہر احمد لندن منتقل نہ ہوتے تو یقیناً جماعت احمد یہ اتنی ترقی نہ کرتی۔بہر حال جب جماعت احمدیہ کو یقین ہو گیا کہ ضیاء حکومت مرزا طاہر احمد کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے تو جماعت کے بعض افراد نے مرزا طاہر احمد کو ملک چھوڑ جانے کا مشورہ دیا جسے انہوں نے قبول تو کر لیا لیکن شرط عائد کی کہ اگر میری گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو گئے تو اس صورت میں وہ ملک سے نہیں جائیں گے۔مرزا طاہر احمد نے یہ شرط اس لئے عائد کی کہ ان کے خیال میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد ملک چھوڑنے سے لوگ بدظن ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ میں ملک سے بعض جرائم کی وجہ سے فرار ہوا