شیطان کے چیلے — Page 548
ہوں 544 وارنٹ گرفتاری تو ابھی تک جاری نہیں ہوئے تھے چنانچہ ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور انتظامات کی ذمہ داری ایک ریٹائر ڈسینئر فوجی افسر کو سونپ دی گئی۔جس نے فیصلہ کیا کہ مرزا طاہر احمد ہالینڈ کی فضائی کمپنی K۔L۔M کے ذریعے ملک سے باہر جائیں گے۔نشستیں بک کروانے کے لئے ایک شخص کو کراچی بھیج دیا گیا۔اگر چہ یہ کام ٹیلی فون کے ذریعے بھی ہوسکتا تھا لیکن ان کے ٹیلی فون ریکارڈ کئے جانے کے خدشے کے پیش نظر ایسا نہیں کیا گیا۔اس ہفتے KLM کی دو پرواز میں روانہ ہونا تھیں ایک 30 اپریل کو علی اصبح جبکہ دوسری 2 مئی کے روز جانا تھی۔خلیفہ مرزا طاہر احمد کی خواہش تھی کہ وہ 2 مئی والی پرواز میں جائیں تا کہ تیاری کے لئے زیادہ وقت مل سکے لیکن KLM کے مینجر نے انہیں 30 اپریل کی پرواز کے ذریعے جانے کا مشورہ دیا۔اگر چہ اس میں کوئی نشست نہیں تھی تاہم اس نے کہا کہ وہ اس کا انتظام کر لے گا۔K۔L۔M کے مینجر نے بتایا کہ 2 مئی والی پرواز کو خلیج کی ایک ریاست میں اتر نا تھا اور اس بات کا امکان تھا کہ حکومت پاکستان خلیجی ریاست میں مرزا طاہر احمد کو گرفتار کر لے۔جبکہ 30 اپریل والی پرواز کو براہ راست ایمسٹرڈیم جانا تھا چنانچہ 130 اپریل کی پرواز میں مرزا طاہر احمد کی روانگی کا انتظام کر لیا گیا۔ادھر ربوہ حکومت کی 6 خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں تھا اور ان کے اہلکار مرزا طاہر احمد کی مصروفیات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔29 اپریل کی صبح جبکہ ابھی مکمل اندھیرا تھا تو ربوہ سے دو کاریں روانہ ہوئیں جو براستہ لالیاں کراچی ہائی وے پر جا چڑھیں۔ان کاروں کی روانگی کے تین گھنٹے بعد تین کاریں ربوہ سے نکلیں۔ایک کار کی پچھلی نشت پر ایک شخص خلیفہ کی طرز کا لباس پہنے بیٹھا تھا۔معمول کے مطابق دو کار میں اس کار کے پیچھے تھیں اور ایک آگے۔کاروں میں خلیفہ کے ذاتی محافظ دستے کے ارکان بیٹھے ہوئے تھے۔چنانچہ ہر ایک نے یہی سمجھا کہ خلیفہ مرزا طاہر احمد اسلام آباد جا رہے ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے بھی حکام کو اطلاع دی کہ مرزا طاہر احمد اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ مرزا طاہر احمد تین گھنٹے پہلے کراچی کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔