شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 486 of 670

شیطان کے چیلے — Page 486

482 واقعہ پیش آوے کہ جو شخص دوکاندار ہو کر اپنی فروختنی اشیاء کے متعلق کچھ جھوٹ بولے یا کم وزن کرے یا اور کسی قسم کی خیانت کرے یا کوئی رڈی چیز بیچے تو اس پر بجلی پڑا کرے۔سو اس مثال کو زیر نظر رکھ کر ہر ایک منصف کو کہنا پڑتا ہے کہ خدائے علیم و حکیم کے منہ سے لو تقول علینا کا لفظ نکلنا وہ بھی تبھی ایک برہان قاطع کا کام دے گا کہ جب دو صورتوں میں سے ایک صورت اس میں پائی جائے۔(۱) اول یہ کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ نے پہلے اس سے کوئی جھوٹ بولا ہو اور خدا نے کوئی سخت سزا دی ہو اور لوگوں کو بطور امور مشہودہ محسوسہ کے معلوم ہو کہ آپ اگر خدا پر افترا کریں تو آپ کو سزا ملے گی جیسا کہ پہلے بھی فلاں فلاں موقع پر سزا ملی لیکن اس قسم کے استدلال کو آنحضرت ﷺ کے پاک وجود کی طرف راہ نہیں بلکہ آنحضرت علی کی نسبت ایسا خیال کرنا بھی کفر ہے۔(۲) دوسرے استدلال کی یہ صورت ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ عام قاعدہ ہو کہ جو شخص اس پر افترا کرے اس کو کوئی لمبی مہلت نہ دی جائے اور جلد تر ہلاک کیا جائے۔سو یہی استدلال اس جگہ پر صحیح ہے۔ورنہ لو تقول علینا کا فقرہ ایک معترض کے نزدیک محض دھوکا دہی اور نعوذ باللہ ایک فضول گودوکاندار کے قول کے رنگ میں ہو گا جو لوگ خدا تعالیٰ کے کلام کی عزت کرتے ہیں ان کا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ لو تقول علینا کا فقرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا مہمل ہے جس کا کوئی بھی ثبوت نہیں۔صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ان مخالفوں کو یہ بے ثبوت فقرہ سنانا جو آنحضرت کی نبوت کو نہیں مانتے اور نہ قرآن شریف کو من جانب اللہ مانتے ہیں محض لغو اور طفل تسلی سے بھی کمتر ہے اور ظاہر ہے کہ منکر اور معاند اس سے کیا اور کیونکر تستی پکڑیں گے بلکہ ان کے نزدیک تو یہ صرف ایک دعوئی ہو گا جس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ایسا کہنا کس قدر بیہودہ خیال ہے کہ اگر فلاں گناہ میں کروں تو مارا جاؤں گو کروڑ ہا دوسرے لوگ ہر روز دنیا میں وہی گناہ کرتے ہیں اور مارے نہیں جاتے۔اور کیسا یہ مکروہ عذر ہے کہ دوسرے گناہگاروں اور مفتریوں کو خدا کچھ نہیں کہتا یہ سز ا خاص میرے لئے ہے اور عجیب تریہ کہ ایسا کہنے والا یہ بھی تو ثبوت نہیں دیتا کہ گذشتہ تجربہ سے مجھے معلوم ہوا ہے اور لوگ دیکھ چکے ہیں کہ اس گناہ پر ضرور مجھے سزا ہوتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ کے حکیمانہ کلام کو جو دنیا میں اتمام حجت کے لئے نازل ہوا ہے۔ایسے بیہودہ طور پر خیال کر ناخدا تعالیٰ کی پاک کلام سے ٹھٹھا اور جنسی ہے۔“ اربعین نمبر 4۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ (4440430