شیطان کے چیلے — Page 485
481 بیان کیا ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامورمن اللہ ہونے کا دعویٰ کر۔تو وہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ نبوت کے مانند ہرگز زندگی نہیں پائے گا۔ورنہ یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہرے گا اور کوئی ذریعہ اس کے سمجھنے کا قائم نہیں ہوگا کیونکہ اگر خدا پر افترا کر کے اور جھوٹا دعویٰ مامورمن اللہ ہونے کا کر کے تئیس برس تک زندگی پالے اور ہلاک نہ ہو تو بلا شبہ ایک منکر کے لئے حق پیدا ہو جائے گا کہ وہ یہ اعتراض پیش کرے کہ جبکہ اس در دغگو نے جس کا دروغگو ہونا تم تسلیم کرتے ہو تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک زندگی پالی اور ہلاک نہ ہوا تو ہم کیونکر سمجھیں کہ ایسے کاذب کی مانند تمہارا نبی نہیں تھا۔ایک کاذب کو تئیس برس تک مہلت مل جانا صاف اس بات پر دلیل ہے کہ ہر ایک کا ذب کو ایسی مہلت مل سکتی ہے تو پھر لَوْ تَقَوّلَ عَلَيْنَا کا صدق لوگوں پر کیونکر ظاہر ہوگا ؟ اور اس بات پر یقین کرنے کے لئے کون سے دلائل صلى الله پیدا ہوں گے کہ اگر آنحضرت ﷺ افترا کرتے تو ضرور تئیس برس کے اندر اندر ہلاک کئے جاتے۔لیکن اگر دوسرے لوگ افترا کریں تو وہ تئیس برس سے زیادہ مدت تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور خدا ان کو ہلاک نہیں کرتا۔یہ تو وہی مثال ہے مثلاً ایک دوکاندار کہے کہ اگر میں اپنے دوکان کے کاروبار میں کچھ خیانت کروں یار ڈی چیزیں دوں یا جھوٹ بولوں یا کم وزن کروں تو اسی وقت میرے پر بجلی پڑے گی اس لئے تم لوگ میرے بارے میں بالکل مطمئن رہو اور کچھ شک نہ کرو کہ کبھی میں کوئی رڈی چیز دوں گا یا کم وزنی کروں گا یا جھوٹ بولوں گا بلکہ آنکھ بند کر کے میری دوکان سے سودا لیا کرو اور کچھ تفتیش نہ کرو تو کیا اس بے ہودہ قول سے لوگ تسلی پا جائیں گے اور اس کے اس لغو قول کو اس کی راستبازی پر ایک دلیل سمجھ لیں گے؟ ہر گز نہیں معاذ اللہ ایسا قول اس شخص کی راستبازی کی ہرگز دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ ایک رنگ میں خلق خدا کو دھوکا دینا اور ان کو غافل کرنا ہے۔ہاں دوصورت میں یہ دلیل ٹھیر سکتی ہے۔(۱) ایک یہ کہ چند دفعہ لوگوں کے سامنے یہ اتفاق ہو چکا ہو کہ اس شخص نے اپنی فروختنی اشیاء کے متعلق کچھ جھوٹ بولا ہو یا کم وزن کیا ہو یا کسی اور قسم کی خیانت کی ہو تو اسی وقت اس پر بجلی پڑی ہو۔اور نیم مردہ کر دیا ہو اور یہ واقعہ جھوٹ بولنے یا خیانت یا کم وزنی کرنے کا بار بار پیش آیا ہو اور بار بار بجلی پڑی ہو یہاں تک کہ لوگوں کے دل یقین کر گئے ہوں کہ در حقیقت خیانت اور جھوٹ کے وقت اس شخص پر بجلی کا حملہ ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ قول ضرور بطور دلیل استعمال ہوگا۔کیونکہ بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ جھوٹ بولا اور بجلی گری (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ یہ