شیطان کے چیلے — Page 487
483 ان تحریروں سے یہ مسئلہ خوب کھل جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ ایک قطعی فیصلہ ہے کہ وہ مفتری کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیتا بلکہ اسے ناکام و نامراد کر کے ہلاک کرتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں بلکہ مفتری تو کامیاب ہوتے ہیں اور اپنے اس گستاخانہ بیان کے حق میں بعض نظیریں بھی پیش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کے قول کو رد کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ان کا یہ وطیرہ نہ صرف ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل بلکہ خدا تعالیٰ کے کلام کی شان میں کھلی کھلی گستاخی بھی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر مزید زور دیتے ہوئے خدا تعالیٰ کے کلام کی حقانیت کو ثابت فرمایا۔آپ حافظ محمد یوسف صاحب وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے پھر فرماتے ہیں۔وو انہی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کی یہ دلیل کہ اگر یہ نبی جھوٹے طور پر وحی کا دعوی کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا۔یہ کچھ چیز نہیں ہے بلکہ بہیترے ایسے مفتری دنیا میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے تمیس برس سے بھی زیادہ مدت تک نبوت یا رسالت یا مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے خدا پر افترا کیا اور اب تک زندہ موجود ہیں۔حافظ صاحب کا یہ قول ایسا ہے کہ کوئی مومن اس کی برداشت نہیں کرے گا مگر وہی جس کے دل پر خدا کی لعنت ہو۔کیا خدا کا کلام جھوٹا ہے؟ ومن اظلم من الذي كذب كتاب الله الا ان قـول اللـه حـق والا ان لعنة الله على المكذبين - یہ خدا کی قدرت ہے کہ اس نے منجملہ اور نشانوں کے یہ نشان بھی میرے لئے دکھلایا کہ میرے وحی اللہ پانے کے دن سیدنا محمد مصطفیٰ کے دنوں سے برابر کئے۔جب سے کہ دنیا شروع ہوئی ایک انسان بھی بطور نظیر نہیں ملے گا جس نے ہمارے سید وسردار نبی ﷺ کی طرح تئیس برس پائے ہوں اور پھر وحی اللہ کے دعوے میں جھوٹا ہو یہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو ایک خاص عزت دی ہے جو ان کے زمانہ نبوت کو بھی سچائی کا معیار ٹھہرا دیا ہے۔پس اے مومنو! اگر تم ایک ایسے شخص کو پاؤ جو مامورمن اللہ ہونے کا دھوئی کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعوئی پر تئیس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعوی کرتا رہا اور وہ دعوی اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ کی وحی اللہ پانے کی مدت اس