شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 479 of 670

شیطان کے چیلے — Page 479

475 جنہوں نے جھوٹے دعوئے نبوت اور رسالت کے کئے تھے اور باوجود جھوٹ بولنے اور خدا پر افترا کرنے کے وہ تئیس برس سے زیادہ مدت تک زندہ رہے لہذا حافظ صاحب کے نزدیک قرآن شریف کی یہ دلیل باطل اور بیچ ہے اور اس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی مگر تعجب کہ جبکہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم اور مولوی سید آل حسن صاحب مرحوم نے اپنی کتاب ازالہ اوہام اور استفسار میں پادری فنڈل کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی تو پادری فنڈل صاحب کو اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجد و یکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کو توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکا اور لا جواب رہ گیا اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلا کر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحه 387 تا390 ) ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس اصول اور معیار کو پیش فرمایا ہے اس پر امت کے بہت سے آئمہ و مفسرین نے بھی صاد کیا ہے چنانچہ حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت مذکورہ بالا کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔" هــذا ذكـره عـلـى سـبـيـل التمثيل بما يفعله الملوك لمن يتكذب عليهم فانّهم لا يمهلونه بل يضربون رقبته في الحال “ ( تفسیر کبیر۔جلد 30 صفحہ 118 مطبع داراحیاء التراث العربی بیروت) ترجمہ:۔” اس آیت میں مفتری کی حالت تمثیلاً بیان کی ہے کہ اس سے وہی سلوک ہوگا جو بادشاہ ایسے شخص سے کرتے ہیں جو ان پر جھوٹ باندھتا ہے۔وہ اس کو مہلت نہیں دیتے بلکہ فی الفور قتل کرواتے ہیں۔( یہی حال مفتری علی اللہ کا ہوتا ہے ) پھر آپ اس عدم مہلت اور جلد قتل کئے جانے پر عقلی ونقلی بحث کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں : "هذا هوا لواجب في حكمة الله تعالى لئلا يشتبه الصادق بالكاذب“ ( جلد 30 صفحہ 119 ) ترجمہ : اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ایسا ہونا ضروری اور واجب ہے تا کہ صادق و کاذب کے حالات مشتبہ نہ ہو جائیں۔گویا جس طرح آیت اس معیار کی مؤید ہے عقل بھی اسی کی تائید کرتی ہے