شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 478 of 670

شیطان کے چیلے — Page 478

474 که استخفاف قرآن یا دلیل قرآن کلمہ کفر ہے۔مگر نہ معلوم کہ حافظ صاحب کو کس تعصب نے اس بات پر آمادہ کر دیا کہ باوجود دعوی حفظ قرآن مفصلہ ذیل آیات کو بھول گئے اور وہ یہ ہیں: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيْمٍ ه وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيْلاً مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيْلاً مَّا تَذَكَّرُوْنَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ هِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَه فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ 0 دیکھوسورۃ الحاقہ المجز ونمبر 29۔اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن کلام رسول کا ہے۔یعنی وحی کے ذریعہ سے اس کو پہنچا ہے۔اور یہ شاعر کا کلام نہیں۔مگر چونکہ تمہیں ایمانی فراست سے کم حصہ ہے۔اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں۔اور یہ کا ہن کا کلام نہیں۔یعنی اس کا کلام نہیں جو جنات سے کچھ تعلق رکھتا ہو مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے اس لئے ایسا خیال کرتے ہو تم نہیں سوچتے کہ کا ہن کس پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں بلکہ یہ ربّ العالمین کا کلام ہے جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا رب ہے یعنی جیسا کہ وہ تمہارے اجسام کی تربیت کرتا ہے ایسا ہی وہ تمہاری روحوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اسی ربوبیت کے تقاضا کی وجہ سے اس نے رسول کو بھیجا ہے اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنالیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا نہ خدا کا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا یعنی اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی۔کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعویٰ سے افتراء اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کا مرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتر یانہ تعلیم سے ہلاک ہو۔اس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افترا کر کے گستاخی کرتا ہے۔اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا گوتم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے۔لیکن حافظ صاحب اس دلیل کو نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وی کی تمام و کمال مدت تمیس برس کی تھی اور میں اس سے زیادہ مدت تک کے لوگ دکھا سکتا ہوں