شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 477 of 670

شیطان کے چیلے — Page 477

473 زندہ رہے ہیں جو کہ حضور ﷺ کے مدت نبوت سے زیادہ ہے۔“ ” اگر ہمارا سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ نہیں ہے تو کسی قوم کی تاریخ سے ہم کو پتہ دو کہ خدائے تعالیٰ پر کسی نے افتراء کیا ہو اور پھر اے مہلت دی گئی ہو۔ہمارے لئے تو یہ معیار صاف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ 23 سال تک کا ایک در از زمانہ ہے۔اس صادق اور کامل نبی کے زمانہ سے قریباً ملتا ہوا زمانہ اللہ تعالیٰ نے اب تک ہم کو دیا۔“ فرمان مرزا از ملفوظات جلد 1 صفحہ 36 مطبوعہ لندن) اسی نوع کا اعتراض راشد علی اور اس کے پیر عبدالحفیظ کے ہم مشرب ایک شخص حافظ محمد یوسف صاحب ضلعد ار نہر نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے کیا تھا۔آپ نے اس کا جواب اپنی کتاب " اربعین نمبر ۳ اور اربعین نمبر 4 میں پوری شرح وبسط کے ساتھ تحریر فرمایا۔چونکہ یہ مضمون ایک تفصیلی اور وضاحت کا متقاضی ہے اس لئے ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریریں قارئین کی خدمت میں پیش دو کر رہے ہیں تا کہ اس مسئلہ کے سب پہلو روشن ہو سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر نے اپنے فہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں بمقام لا ہور۔بڑے اصرار سے یہ بیان کیا کہ اگر کوئی نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعوی کرے اور اس طرح پر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ ایسے افتراء کے ساتھ تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔یعنی افتراء علی اللہ کے بعد اس قدر عمر پانا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوسکتی اور بیان کیا کہ ایسے کئی لوگوں کے نام میں نظیر آ پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے نبی یا رسول یا مامورمن اللہ ہونے کا دعوی کیا اور تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہمارے پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کا ذب تھے۔غرض حافظ صاحب نے محض اپنے مشاہدہ کا حوالہ دے کر مذکورہ بالا دعوے پر زور دیا جس سے لازم آتا تھا کہ قرآن شریف کا وہ استدلال جو آیات مندرجہ ذیل میں آنحضرت علی کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں ہے صحیح نہیں ہے اور گویا خدا تعالیٰ نے سراسر خلاف واقعہ اس محبت کو نصاری اور یہودیوں اور مشرکین کے سامنے پیش کیا ہے۔اور گویا آئمہ اور مفسرین نے بھی محض نادانی سے اس دلیل کو مخالفین کے سامنے پیش کیا۔یہاں تک کہ شرح عقائد نسفی میں بھی کہ جو اہلِ سنت کے عقیدوں کے بارے میں ایک کتاب ہے عقیدہ کے رنگ میں اس دلیل کو لکھا ہے اور علماء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے