شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 468 of 670

شیطان کے چیلے — Page 468

464 ہو جائیں ، اس تہمت سے تب یہ کرتا ہے کہ بجز خدا کے رسول کے کوئی اور شخص ان کا بیان کر نیوالا ہے۔نعوذ باللہ یہ خدا کے کلام کی تکذیب ہے کہ وہ تو صاف لفظوں میں بیان فرمادے کہ میں صریح اور صاف پیشگوئیوں کے کہنے پر بجز اپنے رسول کے کسی کو قدرت نہیں دیتا لیکن اس کے برخلاف کوئی اور یہ دعوی کرے کہ ایسی پیشگوئیاں کوئی اور بھی کر سکتا ہے جس پر خدا کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوئی اور اس طریق سے آیت فلا يُظْهرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا کی تکذیب کر دیوے۔غرض جبکہ ان تمام طریقوں سے اس حدیث کی صحت ثابت ہوگئی اور نیز اس کی پیشگوئی اپنے پورے پیرا یہ میں وقوع میں بھی آ گئی تو اے خدا سے ڈرنے والو! اب مجھے کہنے دو کہ ایسی حدیث سے انکار کرنا جو گیارہ سو برس سے علماء اور خواص اور عوام میں شائع ہو رہی ہے اور امام محمد باقر اس کے راوی ہیں اور تیرہ سو برس سے یعنی ابتداء سے آج تک کسی نے اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔اور نہ دار قطنی نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا۔اور قرآن ، آيت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں اس کا مصدق ہے یعنی اسی گرہن سورج اور چاند کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے اور نیز قرآن صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کسی پیشگوئی پر جو صاف اور صریح اور فوق العادت طور پر پوری ہوگئی ہو بجز خدا کے رسول کے اور کوئی شخص قادر نہیں ہو سکتا۔ایسا انکار جو عناداً کیا جائے ہرگز کسی ایماندار کا کام نہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 137،136 ) -ii ہے: وو راشد علی اور اس کے پیر کا دوسرا حملہ حدیث نبوی کے ترجمہ پر ہے۔انہوں نے جو تر جمہ کیا ہے وہ یہ وہ دونشانیاں یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔“ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ترجمہ تحریر فرمایا ہے کہ وو وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا۔“ (تحفہ گولر و یه روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 132) ہمارا چیلنج ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کا پیش کردہ ترجمہ بالبداہت غلط ہے اور قانونِ قدرت