شیطان کے چیلے — Page 467
463 بطور انعام تمہاری نذر کریں گے جس جگہ چاہو امانتا پہلے جمع کرالو۔ورنہ خدا سے ڈرو جو میرے بغض کے لئے صحیح حدیثوں کو جو علمائے ربانی نے لکھی ہیں موضوع ٹھیراتے ہو۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 133 134 ) پس تم پر تکذیب کی لعنت کی ایسی مار ہے کہ ہر قدم پر جھوٹے ہی ثابت ہوتے ہو۔اب خدا تعالیٰ کے پاک مسیح کی ایک اور تہدید بھی سنتے جاؤ۔آپ فرماتے ہیں : احادیث میں پڑھتے تھے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں کسوف و خسوف ہوگا اور جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا اس وقت تک شور مچاتے تھے کہ یہ نشان پورا نہیں ہوا۔لیکن اب ساری دنیا قریبا گواہ ہے کہ یہ نشان پورا ہوا۔یہاں تک کہ امریکہ میں بھی ہوا اور دوسرے ممالک میں بھی پورا ہوا اور اب وہی جو اس نشان کو آیات مہدی میں سے ٹھہراتے تھے اس کے پورا ہونے پر اپنے ہی منہ سے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہی قابل اعتبار نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم کرے۔میری مخالفت کی یہ لعنت پڑتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کی بھی تکذیب کر بیٹھتے ہیں۔فرمایا: ( ملفوظات۔جلد 3 صفحہ 14) آسمان میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک وتار پھر عجب یہ علم یہ تنقید آثار وحدیث دیکھ کر سوسونشاں پھر کر رہے ہو تم فرار (براہین احمدیہ۔حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21) اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید وضاحت یہ بھی بیان فرمائی کہ جبکہ ایک حدیث دوسری حدیث سے قوت پا کر پا یہ یقین کو پہنچ جاتی ہے تو جس حدیث نے خدا تعالیٰ کے کلام سے قوت پائی ہے اس کی نسبت یہ زبان پر لا نا کہ وہ موضوع اور مردود ہے انہی لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔اگر چہ بباعث کثرت اور کمال شہرت کے اس حدیث کا آنحضر تک رفع نہیں کیا گیا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی گئی مگر خدا نے اپنی دو گواہیوں سے یعنی آیت فلا يُظْهِرُ الخ اور آیت جُمِعَ الشَّمْسُ وَالقَمَر سے خود اس حدیث کو مرفوع متصل بنادیا۔سو بلا شبہ قرآنی شہادت سے اب یہ حدیث مرفوع متصل ہے۔کیونکہ قرآن ایسی تمام پیشگوئیوں کا جو کمال صفائی سے پوری صلى الله -