شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 469 of 670

شیطان کے چیلے — Page 469

465 کےخلاف ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش فرمودہ ترجمہ نہ صرف قطعی طور پر درست ہے بلکہ قانونِ قدرت کے عین مطابق اور حدیث نبوی کی صداقت کا آئینہ دار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند اور سورج کو گرہن لگنا قانونِ قدرت کا حصہ ہے۔جب بھی ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند اور زمین کا جوڑا سورج کے گرد اس حالت میں آئے کہ تینوں ایک لائن میں ہوں تو چاند یا سورج کا گرہن ظاہر ہوتا ہے۔زمین درمیان میں ہو تو اس کا سایہ چاند پر پڑنے سے چاند گرہن۔اور جب چاند درمیان میں ہو تو اہل زمین کے لئے سورج کا ایک حصہ نظر نہیں آتا جسے سورج گرہن کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے قائم کردہ قانونِ قدرت، سائنس اور مشاہدات کی رو سے دنیا بھر کے ہیت دان متفق ہیں کہ چاند گرہن چاند کی صرف 13، 14 اور 15 تاریخ کو لگتا ہے جبکہ سورج گرہن چاند کی 27 ،28 اور 29 تاریخ کو ہی ممکن ہے۔خدا تعالیٰ کی اس سنت مستمرہ کے خلاف کبھی کوئی گرہن نہیں لگا اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا اور ایسا ہی تمام قمری مہینوں میں یکساں طور پر ممکن۔ہے۔سورج ، زمین اور چاند کا قانون قدرت کی پابندی میں مسلسل محو گردش ہونا سورۃ یسین کی آیات 39 تا 41 میں تفصیلاً مذکور ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٌّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيْمِ وَالقَمَرَ قَدَّرْنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالعُرْجُونِ القَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ القَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارَ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُوْنَ ہ کہ سورج ایک مقررہ جگہ کی طرف چلا جارہا ہے۔یہ غالب اور علم والے خدا کا مقرر کردہ قانون ہے۔اور چاند کو دیکھو کہ ہم نے اس کے لئے بھی منزلیں مقرر کر چھوڑی ہیں یہاں تک کہ وہ ان منزلوں پر چلتے چلتے ایک پرانی شاخ کے مشابہہ ہو کر پھر لوٹ آتا ہے۔نہ تو سورج کو طاقت ہے کہ وہ اپنے سال کے دورہ میں سے کسی وقت چاند کے قریب جا پہنچے۔اور نہ رات ( یعنی چاند ) کو طاقت ہے کہ مسابقت کرتے ہوئے دن ( یعنی سورج ) کو پکڑے بلکہ یہ سب کے سب ایک مقررہ راستہ ( یعنی مدار) پر نہایت سہولت کے ساتھ چلتے چلے جاتے ہیں۔یادر ہے کہ زمین کا قطر چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے جبکہ سورج کا قطر زمین کے قطر سے 109۔3 گنا بڑا ہے۔سورج کے گرد زمین کے علاوہ آٹھ اور نمایاں سیارے محو گردش ہیں۔بعض سیاروں