شیطان کے چیلے — Page 377
375 کے جہاد کے متعلق ایسے ظالمانہ خیالات کا اظہار ہو سکتا ہے۔جہاد سے متعلق سب سے منتشر دنظریہ رکھنے والے مولوی مودودی صاحب ہیں۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے ہندوستان کا تعلق ہے، مولوی مودودی صاحب اپنی کتاب ” سود۔حصہ اول میں اس کے متعلق لکھتے ہیں : ”ہندوستان اس وقت بلا شبہ دارالحرب تھا۔“ دار الاسلام نہیں کہہ رہے۔کس وقت دار الحرب تھا؟ جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔“ بعینہ یہی تعلیم جماعت احمدیہ کی ہے کہ جب کوئی غیر پہلے حملہ کرتا ہے تو اس سے لڑو، اپنی عزتوں کی حفاظت کرو ، اپنے مال کی حفاظت کرو ، اپنے دین کی حفاظت کرو اور ایک ایک بچہ بھی کٹ کر مر جائے تو تم نے ہھتیار نہیں ڈالنے، اس وقت دارالحرب ہوتا ہے اس وقت ہر قسم کا دفاع جہادِ اسلام کہلا سکتا ہے۔چنانچہ مولوی مودودی صاحب بھی یہی بات کہتے ہیں۔) اس وقت مسلمانوں پر فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے اور انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا۔“ میں فرمایا: ( سود حصہ اول صفحہ 77 78 حاشیہ شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی لاہور ) دعوت الی اللہ بھی جہاد میں شامل ہے جلالۃ الملک شاہ فیصل نے 1385 ہجری حج کے موقع پر رابطہ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے اجتماع ”اے معزز بھائیو! تم سب کو جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کرنے کے لئے بلایا گیا ہے۔جہادصرف بندوق اٹھانے یا تلوار لہرانے کا نام نہیں بلکہ جہاد تو اللہ کی کتاب اور رسول مقبول کی سنت کی طرف دعوت دینے ، ان پر عمل پیرا ہونے اور ہر قسم کی مشکلات ، دقتوں اور تکالیف کے باوجود استقلال سے اس پر قائم رسالہ ام القری۔مکہ معظمہ 24 اپریل 1956ء) رہنے کا نام ہے۔“