شیطان کے چیلے — Page 376
374 محمد جعفر صاحب ایڈووکیٹ نے احمد یہ تحریک کے نام پر جماعت احمدیہ کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی اس میں وہ فرماتے ہیں :۔وو مرزا صاحب کے زمانہ میں ان کے مشہور مقتدر مخالفین مثلا مولوی محمد حسین بٹالوی، پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب اور سرسید احمد خان سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے جیسے مرزا صاحب۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں جو لٹریچر مرزا صاحب کے رڈ میں لکھا گیا اس میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا صاحب نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضا مند رہنے کی تلقین کی ہے۔“ (احمدیہ تحریک۔صفحہ 243 شائع کردہ سندھ ساگرا کیڈمی لاہور ) پس بعض مخالفین نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمان علماء پر دو دور آئے ہیں ایک وہ جو انگریزی حکومت کا دور تھا اور ایک بعد کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ کچھ اور مسئلے پیش کیا کرتے تھے یعنی سارے علماء جہاد سے متعلق وہی مسائل پیش کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرما رہے تھے مگر آج ان کے مسائل بالکل بدل چکے ہیں مشرق سے مغرب کی طرف رخ کر بیٹھے ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کے متعلق فتوے راشد علی، آغا شورش کا شمیری کو مشہور مؤرخ قرار دیتا ہے اور ان کی اندھی تقلید بھی کرتا ہے۔چنانچہ آغا شورش کا شمیری جو احمدیوں کے شدید معاندین میں سے تھا، کتاب ” سید عطا اللہ شاہ بخاری صفحہ 141 پر یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا کہ: وو جمال دین ابن عبداللہ شیخ عمر حنفی مفتی مکہ معظمہ ، احمد بن ذہنی شافعی مفتی ملکہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ سے بھی فتاویٰ حاصل کئے گئے جن میں ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔اب کون سی بات باقی رہ گئی ہے کہ جس کی بناء پر راشد علی احمدیت پر حملہ کر سکے۔مولوی مودودی صاحب جنہوں نے کتاب ” حقیقت جہاد“ لکھی اور اپنی بعض اور کتب میں بھی جہاد کے متعلق ایسی تعلیم دی جس کا کوئی ہوش و حواس والا مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آنحضرت ﷺ