شیطان کے چیلے — Page 375
373 کریں اور خلاف اصول طرفین کا خون بلا سبب گرادیں یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل غرض جہاد کی سمجھ لی۔“ لیکن ان علماء کو جو آج احمدیت کے خلاف بول رہے ہیں ان کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں: وو رسول اللہ ﷺ کے عہد زریں سے لے کر آج تک مسلمانوں کا ہمیشہ یہ شعار رہا کہ وہ جس حکومت کے زیر سایہ رہے اس کے وفادار اور اطاعت گزار رہے یہ صرف ان کا طرز عمل نہ تھا بلکہ ان کے مذہب کی تعلیم تھی جو قرآن مجید ، حدیث ، فقہ سب میں کنایہ اور صراحنا مذکور ہے۔“ خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں: وو ( مقالات شبلی۔جلد اول صفحہ 171 مطبع معارف اعظم گڑھ 1954ء ) الصلوة جہاد کا مسئلہ ہمارے ہاں بچے بچے کو معلوم ہے۔“ ( یعنی جب تک انگریزی حکومت تھی اس وقت بچے بچے کو وہی مسئلہ معلوم تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام فرمایا کرتے تھے۔لیکن جس دن سے وہ حکومت گئی اس دن سے سارا مسئلہ ہی بدل گیا ہے اور اب ہر بچے کو کچھ اور ہی بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے ماں باپ یہ کہا کرتے تھے۔تو بچے بچے کو کیا معلوم تھا ؟ خواجہ صاحب فرماتے ہیں : ” وہ جانتے ہیں کہ جب کفار مذہبی امور میں حارج ہوں اور امام عادل جس کے پاس حرب وضرب کا پورا سامان ہولڑائی کا فتوی دے تو جنگ ہر مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے۔مگر انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں اور نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں، نہ ہمارے پاس سامان حرب ہے، ایسی صورت میں ہم ہرگز ہرگز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے۔“ (رسالہ۔شیخ سنوسی۔صفحہ 17 مؤلفہ خواجہ حسن نظامی ) مسلمان اکابرین انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے اس حوالہ کو راشد علی اور اس کا پیر ذرا غور سے پڑھیں تا کہ انہیں اپنے جھوٹ کی حقیقت معلوم ہو سکے کہ احمدیت کے دورِ حاضر کے معاندین میں سے بھی بعض یہی بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے۔چنانچہ ملک