شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 303 of 670

شیطان کے چیلے — Page 303

302 کی تفصیل کے بیان میں یا معنوں کے بیان میں اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ کی کسی خاص مصلحت کی وجہ سے اگر آنحضرت ﷺ پر کسی نمونہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے موبمو پوری تفصیلات ابن مریم، دجال، خرد جبال، یا جوج ماجوج اور دابتہ الارض وغیرہ کی نہ کھلی ہوں اور جس حد تک بذریعہ انسانی قومی کے ممکن ہے آنحضرت ﷺ نے ان چیزوں کی تفصیل بیان فرمائی ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان پیشگوئیوں کے ظہور کے وقت اگر کچھ تفصیلات و جزئیات جو پہلے معلوم نہ تھیں مزید ظاہر ہو جائیں۔معززقارئین ! ملاحظہ فرمائیں کہ اس عبارت میں کہاں ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر مذکورہ بالا چیزوں کی حقیقت نہ کھولی گئی تھی۔اس عبارت سے تو یہ واضح ہے کہ ان چیزوں کی حقیقت واصل کیفیت آنحضرت صلى الله پرکھولی گئی تھی مگر اب وقت ظہور ان کی تفصیلات زیادہ ظاہر ہوئی ہیں اور اس سے آپ کی شانِ نبوت پر کچھ جائے حرف نہیں بلکہ ہر زیادہ ظاہر ہونے والی تفصیل اور حقیقت آنحضرت ﷺ کی صداقت اور آپ کی پیشگوئیوں کے عظیم الشان ہونے پر واضح ثبوت مہیا کرتی ہے۔اور یہ امر راشد علی کے نزدیک سخت اعتراض کا موجب ہے اس کی شاید وجہ یہ ہے کہ خود ان لوگوں کا اپنا عقیدہ یہ ہے کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ وم نحضرت ﷺ کا علم بچوں ، مجنونوں اور جانوروں کے برابر ہے۔“ نیز یہ کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ ' شیطان کا علم حضور علیہ السلام سے وسیع تر تھا“ ( حفظ الایمان۔مصنفہ اشرف علی تھانوی۔مطبوعہ دیو بند صفحہ 9) ( براہین قاطعہ۔مصنفہ خلیل احمد۔مصدقہ رشید احمد گنگوہی صفحہ 15) اس کا ثبوت پیر عبدالحفیظ نے یہ تحریر کرتے ہوئے پیش کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا تو روح کی 66 بابت علم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ ” کہہ دو کہ روح میرا حکم ہے چنانچہ اس سے زیادہ آپ نے کچھ نہیں بتایا۔لیکن اس پیر کا اپنا علم اس سے کہیں زیادہ ہے۔چنانچہ کہتا ہے کہ ” میں سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ روح کیا ہے۔( اس بارہ میں تفصیل آئندہ صفحات میں سوال نمبر Xvi کے تحت ملاحظہ فرمائیں ) یعنی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون آنحضرت ﷺ سے وسیع تر علم کا دعویدار ہے۔( نعوذ باللہ)