شیطان کے چیلے — Page 302
301 ” جس قدر الفاظ وحی کے ہوتے ہیں وہ تو بلا شبہ اول درجہ کے سچے ہوتے ہیں مگر نبیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنی طرف سے ان کی کسی قدر تفصیل کرتے ہیں اور چونکہ وہ انسان ہیں۔اس لئے تفسیر میں کبھی احتمال خطا کا ہوتا ہے۔لیکن امور دینیہ ایمانیہ میں اس خطا کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ ان کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر سکھلائی بھی جاتی ہے۔چنانچہ ہمارے نبی کو بہشت اور دوزخ بھی دکھایا گیا اور آیات متواترہ محکمہ بینہ سے جنت اور نار کی حقیقت بھی ظاہر کی گئی ہے پھر کیونکر ممکن تھا کہ اس کی تفسیر میں غلطی کر سکتے۔غلطی کا احتمال صرف ایسی پیشگوئیوں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم اور مجمل رکھنا چاہتا ہے اور مسائل دینیہ سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔یہ ایک نہایت دقیق راز ہے جس کے یادرکھنے سے معرفت صحیحہ مرتبہ نبوت کی حامل ہوتی ہے اور اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باغ کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یا جوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دآئبتہ الارض کی ماہیت کما ھی ھی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قومی ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہوتو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقت ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جائیں تو شان نبوت پر کچھ جائے حرف نہیں۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 472 473) غالبا یہ ہے وہ تحریر جسے معترض نے اپنے بغض کا نشانہ بنایا ہے۔اوّل تو اس پر معارف تحریر کو سمجھنے کے لئے بصیرت اور نو ر قلب درکار ہے۔دوم یہ کہ اگر اس کا عمومی طور پر بھی یا سرسری طور پر بھی تجزیہ کیا جائے تو اس سے حسب ذیل امور واضح طور پر نظر آتے ہیں۔۲۔وحی الہی کے الفاظ بلا شبہ اول درجہ کے سچے ہوتے ہیں۔انبیاءہ بعض اوقات جب اجتہادی طور پر اس وحی الہی کی تفصیل اپنی طرف سے بیان فرماتے ہیں تو انسان ہونے کی وجہ سے اس اجتہاد میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔۔لیکن امور دینیہ ایمانیہ میں ایسی خطا کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ایسی پیشگوئیاں جن کو اللہ تعالیٰ خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مہم اور مجمل رکھنا چاہیے، نبی سے ان