شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 279 of 670

شیطان کے چیلے — Page 279

278 بہر حال اس عبارت سے چند فقرے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کو غلام کے مقام پر رکھ کر آنحضرت ﷺ کو اپنا آقا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ” سيدى خير المرسلين “ یعنی ( میرا آقا) میرا سردار خیرالمرسلین ﷺ اسی طرح اس سے کچھ پہلے یہ بھی لکھا ہے۔وو صلى الله " والنسبة بينى وبينه كنسبة من علّم وتعلم “ (خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 259) کہ میری نسبت اس جناب ( حضرت محمد مصطفی علی ) کے ساتھ استاد اور شاگرد کی نسبت ہے۔پس پیر عبدالحفیظ کا جھوٹا اعتراض محض بغض کی بناء پر ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔باقی جہاں تک ایک وجود کا دوسرے وجود میں ہو جانے کے دعویٰ کا تعلق ہے۔تو پیر عبدالحفیظ نے اپنے اسی زیر بحث مضمون میں یہ مسئلہ خود واضح کیا ہوا ہے اور اس نے ”فـنـا فـي الرسول“ کے مقام کی فلاسفی بھی بیان کی ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ انس آگے چل کر یگانگت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ محبت کی ابتداء ہے۔جب اس محبت میں اضافہ ہوتا ہے تو الفتوی نمبر 23-جنوری 2000ء) محبت کو ہر لمحہ یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ تو من شدم من تو شدی۔“ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فی الواقعہ عشق رسول ﷺ میں یہ انتہائی مقام حاصل تھا اور آپ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں ہر لمحہ یہ محسوس کرتے تھے کہ تو من شدم من تو شدی۔تو اس پر پیر عبدالحفیظ کا چیں بجیں ہونا چہ معنی دارد؟ اس مضمون کے بعض پہلو (۹) میں تمام نبیوں کے مظہر ہونے پر اعتراض کے باب میں ملاحظہ فرمائیں، جن میں بعض بزرگانِ امت آنحضرت ﷺ کے برابر تو کیا آپ میں مدغم ہوتے بیان ہوئے ہیں۔اس مضمون کو ایک دوسرے زاویہ سے اگر دیکھا جائے تو رسولوں میں تفریق نہ کرنے کا اصول ایمان کا بنیادی جزو ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِهِ وَالمُومِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ (البقره:268)