شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 278 of 670

شیطان کے چیلے — Page 278

277 ہدف اعتراض بناتے ہوئے بڑی بدتمیزی سے یہ لکھا ہے۔وو صد افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے یہودی صفت لوگ ہمیشہ سرکار دو عالم ﷺ کی اس عظمت وشان کو گھٹانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے۔مرزا صاحب فرماتے ہیں: من فرق بيني وبين المصطفى فما عرفني و ما راني - " جس نے مجھ میں اور مصطفیٰ میں فرق کیا اس نے مجھے نہیں دیکھا مجھے نہیں پہچانا۔“ خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 259) کہاں حضرت محمد ﷺ جیسی عظیم ہستی اور کہاں مرزا غلام کہ نماز میں ایک چھوٹی سی سورۃ پڑھنے سے اختلاج ہونے لگتا تھا۔چہ نسبت خاک را به عالم پاک !! (الفتوی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ جس پر اس پیر کو اعتراض ہے، دراصل ایک عارفانہ بیان ہے جو ہر امتی کی منزل اور ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے ہرگز الگ نہیں ہوسکتا بلکہ آپ کے ساتھ ملا ہوا ہے۔لیکن اس پر اعتراض کر کے پیر عبدالحفیظ نے اپنی حیثیت بہر حال واضح کر دی ہے کہ وہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بالکل الگ بھی ہے اور مخالف بھی۔دوسری بات یہ مدنظر رکھنی ضروری ہے کہ پیر عبد الحفیظ نے جعلی پیروں والی وہی حرکت یہاں بھی کی ہے جس کی اسے عادت ہے۔وہ کہیں اصل عبارتوں میں تحریف کرتا ہے تو کہیں معنوں میں۔یہاں مذکورہ بالا عبارت کے معنوں میں اس نے تحریف کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” خطبہ الہامیہ میں لفظ فرق کا ترجمہ ” فرق نہیں بلکہ ” تفریق درج ہے۔جبکہ پیر مذکور نے یہ ترجمہ بدل کر تفریق کی بجائے فرق کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کے اصل معنی یعنی ” اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مجھے اور آنحضرت ﷺ کو الگ سمجھتا ہے یعنی ایک دوسرے کا غیر سمجھتا ہے تو اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔لیکن پیر عبدالحفیظ نے لفظ ” تفریق کو فرق“ میں بدل کر یہ تاثر دیا ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعینہ محمد ہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ان دونوں کا وجود ایک ہی ہے۔نیز راشد علی نے لفظ ” رای “ کو ” رانی “ میں بھی بدلا ہے۔صلى الله