شیطان کے چیلے — Page 280
279 ترجمہ:۔رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف اتارا گیا اور مومن بھی۔(ان میں سے ) ہر ایک ایمان لے آیا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (یہ کہتے ہوئے کہ ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کریں گے۔اسی طرح فرمایا: " قُل أَمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِم لَانُفَرِّقُ بَينَ أَحَدٍ مِّنهم وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (آل عمران : 85 ) ترجمہ:۔تو کہہ دے ہم ایمان لے آئے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور جوابراہیم پر اتارا گیا اور اسماعیل پر اور الحق پر اور یعقوب پر اور (اس کی) نسلوں پر اور جو موسیٰ اور عیسی کو اور جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا۔ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔پس ان آیات قرآنیہ کے تحت خدا تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام میں کوئی تفریق نہیں اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور ایمان کے اس لازمی رکن کا تقاضا یہ تھا کہ راشد علی اور اس کا پیر حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلام ، پاک مسیح کے درمیان بھی تفریق نہ کرتے اور جس سچائی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے اسے قبول کرتے۔(7) وو " محمد " پھر اتر آئے ہیں ہم میں گستاخی رسول “ کے عنوان کے تحت راشد علی کے پیر عبدالحفیظ نے مضمون میں سے حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کے یہ دوشعر محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں محمد د یکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں