شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 277 of 670

شیطان کے چیلے — Page 277

276 تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام - صفحہ 228 229۔ایڈیشن اول۔مطبوعہ مئی 1986 ء نفیس اکیڈمی کراچی ) اس مسئلہ پر تفصیلی بحث سے ہم نے راشد علی اور اس کے پیر کے اعتراض کو کلیۂ جھوٹا ثابت کر دیا ہے لیکن مذکورہ بالا سچائیوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ کے سامنے اپنا جو مقام سمجھتے تھے وہ کیا تھا۔آپ فرماتے ہیں: انظر الى برحمة و تحنن يا سيدى انا احقر الغلمان ترجمہ:۔اے میرے آقا! میں آپ کا ادنی غلام ہوں، مجھ پر محبت اور شفقت کی نظر ڈالیں۔اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حضور یہ آپ کا وہ مقام غلامی ہے جس کا ابتداء سے تادم واپسیں آپ مسلسل اظہار فرماتے رہے۔چنانچہ اپنی وفات سے چند دن پہلے آپ نے فرمایا: ہم پر جواللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرم کے فیض سے ہی ہیں۔آنحضرت سے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اور خاک بھی نہیں۔آنحضرت کی عزت اور مرتبہ دل میں اور ہر رگ وریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں کوئی ہزار تپسیا کرے، چپ کرے، ریاضت شاقہ اور مشقتوں سے مشت استخوان ہی کیوں نہ رہ جائے مگر ہر گز کوئی سچا روحانی فیض بجز آنحضرت کی پیروی اور اتباع کے کبھی میسر آ سکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں۔“ (الحکم 18 مئی 1908 صفحہ 4) سب ہم نے اس پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ لقا میں ہے ہم ہوئے غیر اہم تجھ ހނ تیرے بڑھنے ہی اے خیر رسل قدم آگے بڑہایا ہم نے (6) صلى الله آنحضرت ﷺ سے الگ نہ ہونے پر اعتراض را شد علی کے پیر خرافات سید عبدالحفیظ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک عارفانہ بیان کو