شیطان کے چیلے — Page 187
186 کے اندر عذاب نازل ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔اپنی پیشگوئی کے متعلق انہیں اتنا یقین تھا کہ شہر سے باہر ڈیرہ ڈال کر عذاب کا انتظار کرنے لگے۔ادہر قوم نے ٹاٹ پہن لئے اور عورتوں اور بچوں نے عذاب کے ٹلانے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور واویلا شروع کر دیا تو خدا تعالیٰ نے قوم کے رجوع کی وجہ سے ان سے عذاب ٹال دیا۔لیکن حضرت یونس علیہ السلام اس خیال سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ میری پیشگوئی پوری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔اس بھاگ جانے کی پاداش میں انہیں تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا۔اللہ تعالیٰ آپ کی قوم کے بارہ میں فرماتا ہے۔فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ، لَمَّا امَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ“ (يونس:99) ترجمہ:۔پس کیوں یونس کی قوم کے سوا ایسی کوئی بستی والے نہیں ہوئے جو ایمان لائے ہوں اور جن کو ان کے ایمان نے فائدہ پہنچایا ہو۔جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام کے بارہ میں ایک اور جگہ آتا ہے وو " وَذَا النُّوْن إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ “ (الانبياء: 88) ترجمہ :۔اور مچھلی والا، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا اور اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر گرفت نہیں کریں گے۔الغرض حضرت یونس علیہ السلام سے یہ اجتہادی غلطی سرزد ہوئی کہ وہ یہ سمجھ کر بھاگ نکلے کہ ان کی پیشگوئی لفظاً پوری نہیں ہوئی۔حالانکہ یہ پیشگوئی وعیدی پیشگوئیوں کے قاعدہ کے ماتحت قوم کی تو بہ اور اس کے رجوع سے ٹل گئی تھی۔اس کی وجہ سے یونس علیہ السلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا تھا۔وہ محض اپنے اجتہاد کی وجہ سے بھاگے تھے۔اس لئے ان کے اس طرح بلا وجہ بھاگ نکلنے کے واقعہ کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو نصیحت فرماتا ہے کہ آپ " بھی کسی وعیدی پیشگوئی کے متعلق ایسا نمونہ نہ دکھلا ئیں جو یونس علیہ السلام نے دکھایا تھا۔فرمایا 66 فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُوْم “ (القلم:49) ترجمہ:۔سو اپنے رب کے فیصلے کے انتظار میں صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جب اس نے (اپنے رب کو