شیطان کے چیلے — Page 186
185 ترجمہ: نبی ﷺ بھی اجتہاد کرتے تو اس میں خطا ہو جاتی۔پھر اس کے ثبوت میں آگے ایک حدیث نبوی درج کی گئی ہے کہ " المجتهد يخطى و يصيب فإن اصاب فله اجران و ان اخطأ فله اجرٌ واحدٌ۔(حوالہ مذکورہ بالا ) ترجمہ: مجتہد اجتہاد میں غلطی بھی کرتا ہے اور وہ صحیح اجتہاد بھی کرتا ہے۔اگر اس کا اجتہاد درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر وہ اجتہاد میں غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ ملہم بعض اوقات ایک وعیدی پیشگوئی کو قضائے مبرم سمجھ لیتا ہے لیکن عند اللہ وہ قضائے معلق ہوتی ہے۔ایسی مبرم سمجھی جانے والی قضاء بعض اوقات صدقہ و دعا وغیرہ سے مل جاتی ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے: 66 اكثر من الدعاء فان الدّعا يردّ القضاء المبرم (کنز العمال۔جامع الصغیر۔جلد اوّل صفحہ 54۔مطبوع مصر ) ترجمہ:۔کثرت سے دعا کیا کرو کیونکہ دعا تقدیر مبرم ( یعنی مبرم مجھی گئی تقدیر ) کو بھی ٹال دیتی ہے۔اسی طرح صدقہ کے بارہ میں ہے کہ ان النبي عل الله قال ان الصدقة تدفع البلاء النازل من السماء “ روض الریاضین برحاشیہ قصص الانبیاء۔صفحہ 364) ترجمہ:۔صدقہ و خیرات اس بلاء کو دور کر دیتا ہے جو مبرم طور پر آسمان سے نازل ہونے والی ہو۔( یعنی جسے بظاہر مبرم سمجھا گیا ہو ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يَعِبَادِ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيْعًا (الزمر:54) ترجمہ: تو کہہ دے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔یقینا اللہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے۔یقیناً وہی بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر در منثور اور دیگر تفاسیر میں لکھا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم پر چالیس دنوں