شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 188 of 670

شیطان کے چیلے — Page 188

187 ) پکارا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس واقعہ کو بیان کر کے امت محمدیہ کے ملہمین کو بھی بالواسطہ نصیحت فرماتا ہے کہ وعیدی پیشگوئیاں اگر لفظاً پوری نہ ہوں اور جس کے بارہ میں پیشگوئی ہو اس کے تو بہ کر لینے سے اگر پیشگوئی ٹل جائے تو یہ گھبراہٹ کی جگہ نہیں۔نیز اللہ تعالیٰ نے امت کے علماء اور دوسرے لوگوں کو اس واقعہ کے ذکر سے متنبہ کیا ہے کہ وہ وعیدی پیشگوئی پر بلا وجہ کسی ملہم پر زبان طعن دراز نہ کریں کیونکہ وعیدی پیشگوئیاں ہمیشہ تو بہ کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں اور تو بہ کر لینے والوں سے ان میں بیان کردہ عذاب ٹل جایا کرتا ہے اس لئے یہ بات محل اعتراض نہیں۔اجتہادی خطا کا ایک واقعہ آنحضرت یہ فرماتے ہیں رأيت في المنام أنّى اهاجر من مكة الى ارض ذات نخل فذهب وهلى انها اليمامة او الحجر فإذا هي مدينة يثرب۔“ ( بخاری۔کتاب التعبیر۔باب اذار أى بقرأ تنخر ) ترجمہ:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں تو میرا خیال (اجتہاد ا) اس طرف گیا یہ سرزمین یمامہ یا حجر ہوگی لیکن اچانک وہ سرزمین میٹر ب نکلی۔آنحضرت ﷺ کے ایک ایسے ہی اجتہاد کا نمونہ صلح حدیبیہ والے واقعہ میں بھی موجود ہے۔اس واقعہ کا تفصیلی ذکر ہم نے آئندہ سطور میں باب " رسول اللہ ﷺ کی توہین و گستاخی کے عنوان نمبر 12 کے تحت کیا ہے۔یہ ایسے واقعات ہیں جو قطعی طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اجتہادی غلطی اگر نبی سے سرزد ہو تو یہ نبوت میں حارج نہیں اور اس پر اعتراض کرنا دیانتداری نہیں۔تقدیر مبرم کی اقسام وہ تقدیر مبرم کہ جس کے دعا وصدقہ سے مل جانے کا ذکر احادیث نبویہ کی رو سے قبل ازیں پیش کیا جاچکا ہے ایسی تقدیر مبرم ہوتی ہے جو دراصل خدا تعالیٰ کے ہاں تو مبرم نہیں ہوتی بلکہ معلق ہی ہوتی ہے لیکن