شیطان کے چیلے — Page 185
184 درست ثابت نہیں ہوتا۔یعنی اس کے اپنے اجتہادی معنوں میں تو وہ غیب کی خبر پوری نہیں ہوتی البتہ اصل الہامی الفاظ میں وہ بہر حال پوری ہوتی ہے اور خود واقعات الہامی الفاظ کی صحیح تشریح و تعبیر ظاہر کر دیتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تیرے اہل کو غرق ہونے سے بچالوں گا۔جب ان کا بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اپنے بچے کو بچائے جانے کی درخواست کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو اس کا وعدہ یاد دلایا اور عرض کی کہ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ (هود: 46) ترجمہ:۔یقیناً میرا بیٹا بھی میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ ضرور سچا ہے۔مقصد یہ تھا کہ وعدہ کے مطابق اسے تو بچنا چاہئے لیکن اس پر خدا تعالیٰ نے جواب دیا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ، فَلَا تَسْتَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ ج۔عِلْمٌ ، إِنِّي أَعِظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ 0 (هود:47) ترجمہ:۔یقینا وہ تیرے اہل میں سے نہیں۔بلاشبہ وہ تو سراپا ایک ناپاک عمل تھا۔پس مجھ سے وہ نہ مانگ جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔میں تجھے نصیحت کرتا ہوں مبادا تو جاہلوں میں سے ہو جائے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے غرق ہونے والے بیٹے کو اپنے اجتہاد سے پیشگوئی میں مذکور لفظ اھل میں داخل سمجھا کیونکہ جسمانی لحاظ سے وہ بہر حال آپ کے اہل میں شامل تھا لیکن علم الہی میں اہل کو بچائے جانے کے وعدہ میں وہ داخل نہ تھا کیونکہ خدا کے نزدیک وہ ” اہل مراد تھے جو روحانی لحاظ سے بھی اہل ہوں اس لئے نوح علیہ السلام نے اجتہادی غلطی سے اسے بچائے جانے والے اہل کے وعدہ میں داخل سمجھا حالانکہ وہ خدا کے وعدہ میں شامل نہ تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اس سے بچائے جانے کی درخواست پر ان کو ان کی غلطی سے متنبہ کر دیا۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ملہم الہام کے جو معنے سمجھے وہ ضرور صحیح ہوں یا جس امر کو وہ خدائی وعدہ سمجھے وہ ضرور خدائی وعدہ ہو اور اس میں تخلف جائز نہ ہو۔ایسے خیالی وعدہ کو پورا کرنے کا خدا تعالیٰ ذمہ دار نہیں ہوتا۔اسلامی عقائد کی کتابوں میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ " ان النبي لما لم يجتهد فيكون خطأ ،، 66 (النمر اس شرح الشرح لعقا مد نسلی صفحه 392)