شیطان کے چیلے — Page 168
167 آئمہ سلف اور علمائے امت کے ان اقوال کی روشنی میں قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ راشد علی کا دعویٰ محض جھوٹا ہی نہیں عقائد اسلامیہ کے بھی منافی ہے۔راشد علی کا اصل اعتراض یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے معانی میں تحریف کی ہے اس کی مثال اس نے آیت ” خاتم النبیین “ کی پیش کی ہے۔امر واقع یہ ہے کہ ” خاتم النبیین “ کے معنوں کے محترف یہ لوگ خود ہیں۔یہ خود اس عظیم الشان لقب کے معنے ایسے کرتے ہیں جو سید الکونین ، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقام و مرتبہ ، قرآن کریم ، احادیث نبویہ محاورہ ولغت عرب اور اقوالِ آئمہ سلف کے منافی ہیں۔عربی زبان میں اس کے محاورات میں جب کبھی خاتم النبیین کے طریق پر کوئی مرکب اضافی کسی کی مدح میں استعمال ہو تو ایسے مرکب اضافی کے معنے ہمیشہ اس جماعت مضاف الیہ کے اعلیٰ ، کامل اور انتہائی افضل فرد کے ہوتے ہیں اور وہ فرد اپنے کمال میں بے مثال اور عدیم النظیر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے لفظ خاتم کے معنے نفی کمال کے لئے جاتے ہیں۔نفسی جنس کے نہیں۔کیونکہ خاتم کا لفظ مذکورہ بالا صورت میں کبھی بھی نفئی جنس کے ساتھ استعمال نہیں ہوا۔اگر ہوا ہو تو راشد علی ، اس کا پیر یا ان کے ہم مشرب اس کی مثال پیش کریں۔انہیں ہمارا چیلنج ہے کہ عربی لغت میں خاتم النبیین کے طریق پر مرکب اضافی جو کسی کی مدح میں استعمال ہوئی ہو، وہاں خاتم کے معنے نفسی جنس کے دکھا دیں تو ہم انہیں انعام دیں گے۔یہ یادر ہے کہ یہ لوگ ایسی ایک بھی مثال پیش نہیں کر سکتے۔لیکن اس کے برعکس خاتم النبیین کے وہ معنے جو بیچ ہیں اور آنحضرت کے بلند مقام ومرتبہ کو ثابت کرنے والے ہیں، جماعت احمد یہ وہ معنے پیش کرتی ہے اور انہیں کی تائید میں کثرت سے مثالیں بھی موجود ہیں۔چنانچہ ان میں سے چند ایک ملاحظہ فرمائیں۔خاتم النبیین کے طریق پر خاتم مرکب اضافی کی مثالیں۔1۔ابو تمام شاعر کو خاتم الشعراء لکھا ہے۔2۔ابوالطبیب کو خاتم الشعراء کہا گیا ہے۔ی)۔ابو العلاء المعری و خاتم الشعراء قرار دیا گیا ہے۔( وفیات الاعیان۔جلد اول) (مقد مہ دیوان منتهی۔مصری صفحهی) (حوالہ مذکورہ بالا حاشیہ صفحہ