شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 152 of 670

شیطان کے چیلے — Page 152

151 قسم کی کوئی تو جیہ کرنی پڑے گی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ تو جیبہ فرمائی ہے جو واقعات کے مطابق اور انسانی عقل کے موافق ہے۔نیز معجزہ بھی ہے۔کیونکہ اس صورت پر حضرت مسیح علیہ السلام کو منجانب اللہ اطلاع دی گئی اور آپ کے اس طریق کے سامنے باقی لوگ مغلوب ہو گئے۔اور چونکہ وہ پرندے باتفاق مفترین عارضی اور وقتی زندگی پاتے تھے اس لئے اس کو عمل النثرب کا نتیجہ قرار دینا بھی درست ہے۔مسمریزم یعنی عمل النرب کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: اس جگہ یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلپ امراض کر نا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ہر ایک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں۔اور مفلوج ، مبروص ، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔جن لوگوں کے معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہروردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گذرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنی یمین و یسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 256 ، 357 حاشیہ ) یعنی عمل الترب بالذات کوئی بری چیز نہیں ، ہاں جو اس کا برا استعمال کرتا ہے اور مسمریزم وغیرہ کی صورت میں اس کا ناجائز طریق و استعمال اختیار کرتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔البتہ بلند روحانیت کے لحاظ سے یہ کوئی اعلیٰ کمال نہیں۔اسی لئے حضرت اقدس نے اپنے لئے اس کو نا پسند فرمایا ہے۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی تحریر فرمایا کہ " حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جوان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن وحکم الہی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۸۵۲ حاشیہ ) ہمارے اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزہ خلق الطيور كو عمل الترب کہہ کر اس کی توہین نہیں فرمائی بلکہ آپ نے صرف اسی حقیقت کو جس کا تمام مفسرین