شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 153 of 670

شیطان کے چیلے — Page 153

152 کو اقرار ہے ایک جدید اصطلاح ” عمل الترب“ کے ذریعہ بیان فرما دیا ہے۔پس اس مضمون پر یہ عنوان لگانا پرلے درجہ کا جھوٹ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گویا یہ فرمایا ہے کہ ” قرآن کریم میں مذکور معجزات از نوع مسمریزم ہیں۔“ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح کے معجزہ خلق الطیور کو قرآنی الفاظ میں نہ صرف یہ کہ تسلیم کیا ہے بلکہ حسب حدیث لكلّ آية ظهر وبطن، اس کی دو تو جیہات بیان فرمائی ہیں۔(۱) ظاہری۔جواو پر مذکور ہوئی۔اور جس کا ماحصل یہی ہے کہ بے شک وہ پرندے بن گئے تھے مگر حقیقی نہ تھے۔بلکہ یا تو عمل القرب کا نتیجہ تھے یا پھر کسی کل وغیرہ کی وجہ سے تھے جس کی حضرت مسیح کو منجانب اللہ تعلیم کی گئی تھی۔(۲) باطنی۔اس تشریح میں آپ نے تحریر فرمایا ہے: دو چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسی نے اپنار فیق بنایا۔گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255 حاشیہ ) پس دونوں تشریحات ہو سکتی ہیں۔ظاہری بھی باطنی بھی۔مگر جیسا کہ واضح ہے ظاہری تشریح ایک خفیف امر ہوگا جو پائیدار نہیں ہوگا۔لیکن باطنی تشریح ایک مستقل اور اہم صورت ہے اور انبیاء کے شایانِ شان اور ان کے فرضِ منصبی کے عین مطابق ہے۔آیات قرآنیہ کی متعدد تفاسیر کرنا تمام اہل علم کا طریق ہے کیونکہ قرآن مجید جوامع الکلم ہے۔الغرض اس تمام بحث سے یہ کھل کر واضح ہو گیا ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو یہ الزام لگایا ہے کہ آپ نے گویا یہ فرمایا کہ "Miracles Quran Holy in mentioned are mesmerism" قطعی جھوٹا ہے اور کذب صریح ہے۔بالآ خر یادر ہے کہ ہم اس بات کو کھلا کھلا شرک سمجھتے ہیں کہ جو صفت محض ذات باری کے لئے مختص