شیطان کے چیلے — Page 151
150 کرنے کو تسلیم کیا جائے تو اس سے خدا تعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہو جائے گا۔مسیح علیہ السلام کے پرندوں کا حال عصائے موسیٰ کی طرح ہے جیسے وہ سانپ کی طرح دوڑتا تھا مگر ہمیشہ کے لئے اس نے اپنی اصلی حالت کو نہ چھوڑا تھا۔ایسا ہی محققین نے لکھا ہے کہ مسیح کے پرندے لوگوں کے نظر آنے تک اڑتے تھے لیکن جب نظر سے اوجھل ہو جاتے تو زمین پر گر پڑتے اور اپنی پہلی حالت پر آ جاتے تھے۔“ فرمایا: ( ترجمه از عربی عبارت کتاب" حمامۃ البشری۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 315 316) واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) ایک وہ محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔جیسے شق القمر ، جو ہمارے سید و مولی نبی ﷺ کا معجزہ تھا اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔(۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے۔جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صرحٌ مُمَرَّدٌ من قواریر ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ ، حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔“ نیز فرمایا: (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 253 ، 254 حاشیہ) وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دہانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۲ حاشیه ) ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے ظاہری پرندے مانیں گے انہیں لازمی طور پر اسی