شیطان کے چیلے — Page 150
149 شعبدہ بازی وغیرہ کے کام بہت رائج تھے۔اس لئے اس بات کے ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ایسے معجزات عقلیہ ظاہر فرمائے جن سے یہود کی طب اور ان کے دیگر امور مغلوب ہو گئے۔چنا نچہ علامہ سعد الدین تفتازانی اپنی شہرہ آفاق کتاب ” تلویح میں تحریر فرماتے ہیں: ” وقد حقق فى الكتب الكلامية ان معجزة كل نبي بما يتباهى به قومه بحيث لا يتصوّر المـزيـد عـلـيـه كـالسحر في زمن موسى عليه السلام والطب في زمن عيسى عليه السلام والبلاغة في زمن سيّدنا محمد علیه السلام۔“ ( تلویح شرح توضیح۔مطبوعہ مصر۔جلد اول صفحہ 52) ترجمہ علم کلام کی کتابوں میں با تحقیق بتایا گیا ہے کہ ہر نبی کو اسی رنگ کا معجزہ دیا گیا جس پر اس کی قوم کو فخر تھا۔اور اس کیفیت و کمیت کی صورت میں دیا گیا جس پر زیادتی ناممکن تھی۔جیسا کہ حضرت موسی کے زمانہ میں سحر اور جادو تھا اور حضرت مسیح کے وقت میں طب تھی اور آنحضرت ﷺ کے ظہور پر بلاغت تھی۔“ سلسلہ احمدیہ کے اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی لکھا ہے ” خدا تعالیٰ کی قدیم سے عادت ہے کہ ہر زمانہ میں اس قسم کے معجزات و خوارق منکرین کو دکھاتا ہے جو اس زمانہ کے لئے مناسب ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں سحر کا بڑا زور تھا اسلئے ان کو ایسا معجزہ دیا جو سحر کا ہم جنس یا ہم صورت تھا اور وہ سحر پر غالب آیا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں طب کا بڑا چرچا تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا گیا جس نے طبیبوں کو مغلوب کیا۔آنحضرت ﷺ کے مخاطبین وقت کو فصاحت کا ایسا دعویٰ تھا کہ وہ اپنے سوا کسی کو اہل سخن نہ جانتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بلا دغیر کے لوگوں کا عجم ( گونگے ) نام رکھتے تھے۔“ ان پر حقیقت وضاحتوں کو سامنے رکھ کر اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو پڑھیں۔آپ فرماتے ہیں: اشاعۃ السنہ۔جلد 7 نمبر 10 صفحہ 289) مخالف لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص حضرت مسیح علیہ السلام کے خالق طیور اور کئی اموات ہونے کا منکر ہے اور اس کو نہیں مانتا۔مگر میرا جواب یہ ہے کہ میں حضرت مسیح کے اعجازی احیاء اور اعجازی خلق کو مانتا ہوں۔ہاں اس بات کو نہیں مانتا کہ حضرت مسیح نے خدا تعالیٰ کی طرح حقیقی طور پر کسی مردہ کو زندہ کیا ہو یا حقیقی طور پر کسی پرندہ کو پیدا کیا ہو۔کیونکہ اگر حقیقی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مردہ زندہ کرنے اور پرندہ پیدا