شیطان کے چیلے — Page 147
146 استعمال نہیں فرمائے بلکہ بت پرستوں کے ان بچوں کو جو ان کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے تو ڑا بھی ہے۔سو جاننا چاہئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے کہ گویا عام طور پر ہر ایک سخت کلامی سے خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے۔یہ ان کی اپنی سمجھ کا ہی قصور ہے ورنہ وہ تلخ الفاظ جو اظہارحق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تامداہنہ کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ایسی سخت تبلیغ کے وقت میں کسی لائن کی لعنت اور کسی لائیم کی ملامت سے ہرگز نہیں ڈرے۔کیا معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیا تھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جوان نادانوں نے دشنام کی صورت پر سمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخراسان سے سنان تک نوبت پہنچی۔ورنہ اول حال میں تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاد سے آنحضرت ﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلى رَبِّه يعنى محمد ﷺ اپنے رب پر عاشق ہو گئے۔" صلى الله 66 (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 109 تا 115 ) سیہ وہ بحث ہے جس پر مشتمل عبارت میں آپ نے ایک مسئلہ کی وضاحت فرمائی ہے اور قرآنِ کریم سے گندے اعتراضات کو دور فرمایا ہے مگر راشد علی نے اس میں سے ایک فقرہ کو از راہ رجل سیاق وسباق سے الگ کر کے اور غلط معنے چڑھا کر اپنے نفس کا گند ظاہر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل عشق قرآن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا اور آپ کا سینہ اس کے نور سے جگ مگ جگ مگ کرتا تھا۔لیکن جہانتک ان اعتراض کرنے والوں کا تعلق ہے، قرآن کریم کے بارہ میں ان لوگوں کے کیا عقائد ہیں؟ ملاحظہ فرمائیں۔بحالت خواب قرآن پر پیشاب کرنا اچھا ہے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے ایک شخص نے کہا کہ ” میں نے ایسا خواب دیکھا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا ایمان نہ جاتا رہے۔حضرت نے فرمایا بیان تو کرو۔ان صاحب نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ قرآن مجید پر پیشاب کر رہا ہوں۔حضرت نے فرمایا یہ تو بہت اچھا خواب ہے۔“ (افاضات یومیہ تھانوی۔صفحہ 133۔فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 109 ومزیدالمجید تھانوی صفحہ 66 سطر 23 ) خدا کے کلام لفظی یعنی قرآن مجید کا جھوٹا ہونا ممکن ہے