شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 146 of 670

شیطان کے چیلے — Page 146

145 اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کر نا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پُر ہے۔کیونکہ جو کچھ بچوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بُت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلا شبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ إِنَّكُم وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانباء:99) معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے۔کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شر البریہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا ؟ کیا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں واغلظ عَلَيهِم (التوبه 73) نہیں فرمایا کیا مومنوں کی علامات میں أَشِدَّاءُ عَلَى الكُفَّارِ (الفتح: 30) نہیں رکھا گیا۔کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سو راور کتے کے نام سے پکارنا اور گلیل کے عالی مرتبہ فرمانروا ہیرو لیس کا لونبری نام رکھنا اور معز ز سردار کاہنوں اور فقیہوں کو کنجری کے ساتھ مثال دینا اور یہودیوں کے بزرگ مقتداؤں کو جو قیصری گورنمنٹ میں اعلیٰ درجہ کے عزت دار اور قیصری درباروں میں کرسی نشین تھے ان کر یہہ اور نہایت دلازار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرامزادے ہو حرامکار ہوشریر ہو بد ذات ہو، بے ایمان ہو، احمق ہو، ریا کار ہو، جہنمی ہو تم سانپ ہو،سانپوں کے بچے ہو۔کیا یہ سب الفا ظ معترض کی رائے کے موافق فاش اور گندی گالیاں نہیں ہیں۔۔۔دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گووہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شئے ہے۔ہر ایک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے پھر اگر وہ سچ کوسنکر افروختہ ہوتو ہوا کرے ہمارے علماء جو اس جگہ لَا تَسُبُّوا (الانعام: 109) آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔اس آیت کریمہ میں تو صرف دشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہارِ حق سے روکا گیا ہو اور اگر نادان مخالف حق کی مرارت اور تخی دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کر دے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہئے ؟ کیا اس قسم کی گالیاں پہلے کفار نے کبھی نہیں دیں۔آنحضرت ﷺ نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ سخت ہی