شیطان کے چیلے — Page 141
140 (القلم: 21 (8) مشاء بنمیم - چغلخور (القلم: 21) (9) مناع للخير۔بھلائی سے روکنے والے (القلم:21)(8) (القلم :13) (10) معتد۔حد سے بڑھنے والا ( القلم : 13 ) ( 11 ) اٹیم۔فاسق و فاجر ( القلم : 13) (12) عتل۔سرکش ( القلم :14) (13) زنیم ولد الزنا ( القلم :14 ) (14) نــجـــس۔ناپاک (التوبہ : 28) (15) رجس - مجسم گند (التوبه :125) (16) شــر البــريـة سب مخلوق سے بدتر (البینہ: 7)(17) الكلب۔کتا (الاعراف: 177) ہمارے مخالفین کا فرض ہے کہ ان بر حل نازل شدہ الفاظ کو پڑھ کر قرآن مجید کا صحیح اخلاقی معیار سمجھ لیں۔اور سوچیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بعض مواقع پر برمحل الفاظ استعمال کرنا کیونکر قابل اعتراض ہوسکتا ہے؟ ۱۷۔علماء کی دو قسمیں آنحضرت ﷺ نے علماء کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ا۔وہ علماء جور بانی ہیں۔ان کے بارہ میں فرمایا: علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“۔(کشاف الخفاء ومزيل الالباس از اسماعیل بن محمد العجلو فی دار الکتب العلمیة بیروت 1988ء) کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کے مشابہ ہیں۔ایسے علماء کی قرآن کریم نے یہ تعریف بیان فرمائی۔إِنَّمَا يَخشَى اللَّهَ مِن عِبَادِهِ العُلَمَوءُ (الفاطر:29) ترجمہ:۔یقینا اللہ کے بندوں میں سے علماء اس سے ڈرتے ہیں۔۲۔دوسرے علماء وہ ہیں جن کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علماء هم شرّ من تحت اديم السماء “۔کہ اُن کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔- ( المشلوة - كتاب العلم - مطبع احمدی) جہاں تک لوگوں کے اُن علماء کا تعلق ہے۔ان میں سے جو چند ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام