شیطان کے چیلے — Page 142
141 سے مقابلہ کے لئے آپ کے سامنے آئے انہوں نے علمی شکست کے بعد سب وشتم کی پٹاری ہی کھول دی تو ان کے ظلم سے تنگ آکر محض مجبوری کی بناء پر آپ نے صرف انہی کو سخت الفاظ سے مخاطب کیا۔علماء هم کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کے بارہ میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مجد دبارہویں صدی کا یہ قول ہی کافی تھا کہ وو اگر تم مسلمانوں میں یہود کا نمونہ دیکھنا چا ہوتو علماء سوء کو دیکھو جو دنیا کے طالب ہیں۔۔۔کتاب وسنت سے منہ پھیر چکے ہیں۔۔۔اور معصوم شارع کے کلام سے منحرف ہیں۔“ ( الفوز الکبیر۔اردو تر جمہ - صفحہ 52۔ناشر اردواکیڈمی سندھ کراچی) یہ بارہویں صدی کے مجد د کا قول ہے۔لیکن اصل فتویٰ تو بانی اسلام سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلى الله کا ہے۔آپ فرماتے ہیں: تكون في امتى فزعة فيصير الناس الى علمائهم فاذا هم قردة وخنازير۔(منتخب کنز العمال۔برحاشیہ مسند احمد بن حنبل۔جلد 6 صفحہ 28۔دارالذکر للطباعة والنشر مصر ) کہ میری امت پر ایک ایسا گھبراہٹ کا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ تو بندر اور سو رہیں۔پس ہم نے سارا معاملہ قارئین کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔راشد علی اب جوفتوی بھی لگانا چاہتا ہے، لگائے۔ایسے علماء جن کو آنحضرت ﷺ نے بندر ہو ر اور ردائے فلک کے نیچے بدترین مخلوق قرار دیا ہے۔راشد علی ہزار بار بھی ان کی وکالت کرتا ہوا انہیں انسان ثابت کرنا چاہے وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتا اور آنحضرت ﷺ کی بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا یقیناً ابلیس لعین کا غلام ہی ہوسکتا ہے۔