شیطان کے چیلے — Page 90
90 اس شعر کے ساتھ کے اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں۔آپ فرماتے ہیں۔کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب وجوار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمتگذار " " ان اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ ” کرم خاکی“ والے شعر میں’ مرے پیارے“ کے الفاظ خدائے کریم کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں۔اور یہ شعر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مناجات میں سے ہے جو آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور کیں۔نیز یہ شعر آپ کے عجز وانکسار اور خدا تعالیٰ کے حضور تذلیل کا آئینہ دار ہے جو کہ شانِ نبوت کا ایک خاصہ ہے۔جس طرح ہمارے آقا و مولیٰ نے جب خدا تعالیٰ کے حضور اپنے عجز وانکسار اور تذلل کا اظہار کیا تو عرض کی " انّى ذليل فاعزّنی “ (جامع الصغير للسيوطی "۔الجزء الثانی۔صفحہ 86 - المکتبہ الاسلامیہ سمندری۔مطبوعہ 1394ھ) " کہ میں ذلیل ہوں مجھے عزت عطا فرما۔“ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے بارگاہ رب العزت میں اپنے آپ کو عبد ذلیل قرار دیا۔(تفسیر کبیر لامام رازی جلد 6 صفحه 181 مصری) لیکن جہاں تک مذکورہ بالا زیر بحث شعر کا تعلق ہے اس کے الفاظ ویسے ہی ہیں جیسے حضرت داؤد علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حضور مناجات کرتے ہوئے پیش کئے۔آپ فرماتے ہیں: ”اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔پر میں تو کیڑا ہوں ،انسان نہیں۔آدمیوں میں انگشت نما ہوں اور لوگوں میں حقیر ہے: حضرت داؤد علیہ السلام کی ان مناجات کا انگلش ترجمہ بائیل (زبور نمبر 22 آیات 1 تا6) میں یہ لکھا "But I am a worm, and no man a reproach of men and