شیطان کے چیلے — Page 91
91 despised of the people۔" بعینہ یہی ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر کا ہے۔اس کا صاف اور صحیح مطلب تو یہ ہے کہ میں ایک بشر ہی تو ہوں ،اس وجہ سے انسانوں کی طرف سے مجھے نفرت اور حقارت کا ملنا ایک لازمی امر ہے۔پس خدا تعالیٰ کے حضور یہ عجز و انکسار اور تذلیل کا اظہار تو شانِ نبوت کا خاصہ ہے اور خاص طور پر شانِ داؤ دہی بھی ہے۔نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت داؤدعلیہ السلام سے ایک مشابہت بھی ہے۔مناجات کے ان الفاظ پر اگر راشد علی نے گندا اچھالا ہے تو اس کی زد حضرت داؤد علیہ السلام کی مناجات پر تو پڑتی ہی ہے مگر اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ اور حضرت ایوب علیہ السلام کی منکسرانہ التجا ئیں بھی اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔نعوذ باللہ من ذلک پس راشد علی سے ہماری یہی درخواست ہے کہ جو گند اس نے اچھالا ہے اسے خود ہی رنگل لے۔ورنہ وہ تو ہین انبیاء کا کھلا کھلا مرتکب ہے۔کیونکہ اس کے اس حملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دوسرے نبی بھی حصہ دار بنتے ہیں۔دیکھئے کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمان بار بار اپنی سچائی کو ظاہر کرتا ہے کہ انبیاء کے طور پر حجت ہوئی ان تمام ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصہ دار میری نسبت جو کہیں کہیں ނ وہ آتا ہے چھوڑ دیں گے کیا وہ کو کفر کر کے اختیار اس باب میں آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ راشد علی نے یہ بھی صریح جھوٹ بولا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں اس کے اردو میں معانی انسان کے عضو نہانی کے ہیں۔کسی لغت میں ” عار“ کے معنے نہ انسان کی جائے شرم کے ہیں اور نہ ہی اس کے معنے ہیں Private" "parts of men۔اور اگر اس نے الفاظ کی جائے نفرت سے یہ مطلب نکالا ہے تو یہ اس کی غلیظ حماقت پر دلیل ہے۔کیونکہ شعر میں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ” نفرت کی جائے یعنی لفظ ” جائے“