شیطان کے چیلے — Page 89
89 66 میں بدکار بعض دفعہ اپنی شکل دیکھ کر اپنی بدصورتی اور زشت روئی کو ان کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔“ (دعوۃ الا میر صفہ 149۔از حضرت خلیفة المسیح الثانی مطبوع لندن - 1993ء) صفحہ (6) 66 شعر کرم خا کی ہوں “ پر ہرزہ سرائی راشد علی نے لکھا ہے۔"Mirza Ghulam Ahmad himself declares his position in the following poetry۔I am an earthworm My dear! Not a human being۔I am the obscene part of men and the shameful place of humans۔(Insaan ki Jaaye sharam)۔(NOTE: The meaning of the words used in urdu is private parts of men۔Author)" (Ghulam Vs Master) معزز قارئین ! یہ سب راشد علی کی بکواس ہے۔جس طرح سؤ رگندگی کے ڈھیر میں اپنی تھو تھنی دھنسا کر گند کھاتا ہے اسی طرح راشد علی نے بھی جھوٹ کے گند میں اپنی تھوتھنی داخل کر کے انتہائی گند اور غلاظت سے بھرے ہوئے خیالات سے اپنا منہ بھرا ہے۔اس کا ثبوت یہی مذکورہ بالا گند ہے جو اس نے بکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی جگہ بھی اردو میں ایسا نہیں فرمایا کہ جس کا وہ ترجمہ ہو سکے جو راشد علی کے گندے ذہن نے اختراع کیا ہے۔کہ "I am the obscene part of men and the shamful place of humans۔(Insaan ki Jaaye sharam) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس شعر پر راشد علی نے جھوٹ کا گند کھایا ہے وہ یہ ہے۔کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر، کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127)