شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح

by Other Authors

Page 2 of 6

شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح — Page 2

4 3 قال اللہ تعالی :- شادی کے موقع پر لڑکی کو نصائح ترجمہ : ” اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنائے تا کہ تم اُن کی طرف تسکین ( حاصل کرنے ) کے لئے جاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔“ (الروم : 22) قال الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :- ترجمہ :- ” بہترین رفیقہ حیات وہ ہے جس کی طرف دیکھنے سے اس کے شوہر کی طبیعت خوش ہو۔میاں جس کام کے کرنے کے لئے کہے اُسے بجالائے اور جس بات کو اُس کا خاوند پسند نہ کرے اُس سے ( حديقة الصالحین صفحہ 320) بچے۔فرمودات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عورت پر اپنے خاوند کی فرمانبرداری فرض ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر عورت کو اُس کا خاوند کہے کہ یہ ڈھیر اینٹوں کا اُٹھا کر وہاں رکھ دے اور جب وہ عورت اُس بڑے اینٹوں کے انبار کو دوسری جگہ پر رکھ دے تو پھر اُس کا خاوند اُس کو کہے کہ پھر اس کو اصل جگہ پر رکھ دے تو اس عورت کو چاہیے کہ چون و چرا نہ کرے بلکہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے۔‘ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 30) حضرت اقدس مسیح موعود کی نصائح وو ” جب لڑکی بیاہی جاتی ہے تو اُس کے ہاتھ میں دو چابیاں ہوتی ہیں ایک صلح کے دروازے کی اور ایک لڑائی کے دروازے کی چابی۔وہ وو 66 جس دروازے کو چاہے کھول سکتی ہے۔خوش نصیب ہوتی ہیں وہ عورتیں جنہوں نے صلح کا دروازہ کھولا۔لڑکی کو اپنے ساس ، سسر کی نہایت تابعداری کرنی چاہیے کیونکہ بعد از شادی لڑکی کا تعلق اپنے والدین سے بڑھ کر اپنے ساس سسر سے ہو جاتا ہے۔اسی واسطے اُن کے ادب کو ہر وقت ملحوظ رکھنا چاہیے۔تعلیم کا یہی فائدہ ہے لڑکی اپنے آپ کو نہایت درجہ تابعدار ثابت کرے۔سخت ہی بد بخت ہیں وہ عورتیں جو کہ اپنے شوہروں کو اُن کے والدین سے برگشتہ کرنے کی تجویزیں کرتی ہیں۔اُن کو کبھی فلاح دارین نصیب نہیں ہو گا۔“ ( سیرت حضرت نواب مبار که بیگم صفحه 343) حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی نصائح اپنے شوہر سے پوشیدہ یا وہ کام جس کو اُن سے چھپانے کی ضرورت سمجھو ہرگز کبھی نہ کرنا۔شوہر نہ دیکھے مگر خدا دیکھتا ہے اور بات آخر ظاہر ہو کر عورت کی وقعت کو کھو دیتی ہے۔اگر کوئی کام اُن کی مرضی کے خلاف سرزد ہو جائے تو ہرگز کبھی نہ چھپانا صاف کہہ دینا کیونکہ اس میں عزت ہے اور چھپانے میں آخر بے عزتی اور بے وقری کا سامنا ہے۔کبھی اُن کے غصے کے وقت نہ بولنا تم پر یا کسی نوکر پر یا بچہ پر خفا ہوں اور تم کو علم ہو کہ اس وقت یہ حق پر نہیں ہیں۔جب بھی اس وقت نہ بولنا۔غصہ تھم جانے پر پھر آہستگی سے حق بات اور اُن کا غلطی پر ہونا اُن کو سمجھا دینا۔غصہ میں مرد سے بحث کرنے والی عورت کی عزت باقی نہیں رہتی اگر غصہ میں کچھ وہ سخت کہہ دیں تو کتنی ہتک کا موجب ہو۔ان کے عزیزوں کو، عزیزوں کی اولاد کو اپنا جاننا کسی کی بُرائی تم نہ سوچنا خواہ تم سے کوئی بُرائی کرے تم دل میں بھی سب کا بھلا ہی چاہنا اور عمل سے بھی