شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح

by Other Authors

Page 3 of 6

شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح — Page 3

6 5۔بدی کا بدلہ نہ کرنا۔دیکھنا پھر ہمیشہ خدا تمہارا بھلا کرے گا۔“ سيرة حضرت اماں جان حصہ دوم ص 167 168 ) ارشادات حضرت خلیفہ اسی اوّل اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو جیسا کہ لباس میں سکون، آرام ، گرمی سے بچاؤ، زینت ، قسم قسم کے دُکھ سے بچاؤ ہے ایسا ہی اس جوڑے میں ہے۔جیسا کہ لباس میں پردہ پوشی ہے ایسا ہی مردوں، عورتوں کو چاہیے کہ اپنے جوڑے کی پردہ پوشی کیا کریں۔اس کے حالات کو دوسروں پر ظاہر نہ کریں۔اُس کا نتیجہ وو رضائے الہی اور نیک اولاد ہے۔“ ( خطبات نور صفحہ 400) آپ نے اپنی بیٹی حفصہ صاحبہ کو شادی کے وقت نصیحت فرمائی۔بچہ ! اپنے مالک، رازق اللہ کریم سے ہر وقت ڈرتے رہنا اور اس کی رضا مندی کا ہر دم طالب رہنا۔اور دعا کی عادت رکھنا ،نماز اپنے وقت پر اور منزل قرآن کریم کی بقدر امکان بدوں ایام ممانعت شرعیہ ہمیشہ پڑھنا۔زکوۃ ، روزہ ، حج کا دھیان رکھنا اور اپنے موقع پر عمل درآمد کرتے رہنا گلہ ، جھوٹ بہتان ، بیہودہ قصے کہانیاں یہاں کی عورتوں کی عادت ہے اور بے وجہ باتیں شروع کر دیتی ہیں۔ایسی عورتوں کی مجلس زہر قاتل ہے۔ہوشیار خبر دار رہنا۔۔۔علم دولت ہے بے زوال۔ہمیشہ پڑھنا چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو قرآن پڑھانا۔زبان کو نرم، اخلاق کو نیک رکھنا۔پردہ بڑی ضروری چیز ہے۔۔۔اللہ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تم کو نیک کاموں میں مدد دیوے۔( حیات نورص 83) ارشادات حضرت خلیفہ اسیح الثالث وو آپ میں سے ہر وہ عورت جس کے گھر میں کوئی فتنہ ہو اور اتحاد میں خلل پیدا ہوتا ہو اپنے خدا کے سامنے اُس کی ذمہ دار ہے اور اُس کے متعلق اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ اُس نے اپنے گھر کی پاسبانی نہیں کی۔“ (ماہنامہ مصباح سیدنا حضرت خلیفۃ وو اصبح الثالث نمبر جون جولائی 2008 صفحہ نمبر 85) حضرت خلیفۃ اسیح الرابع فرماتے ہیں احمدی عورت واقعتاً اس بات کی اہلیت رکھتی ہے کہ اپنے گھروں میں وہ کشش دے جس کے نتیجے میں وہ محور بن جائے اور اُس کے گھر کے افراد اس کے گرد گھو میں۔اُنہیں باہر چین نصیب نہ ہو بلکہ گھر میں سکینت ملے۔ایک دوسرے سے پیار و محبت کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں کہ لذت یابی کا محض ایک ہی رخ سر پر سوار نہ رہے جو جنون بن جائے اور جس کے بعد دُنیا کا امن اُٹھ جائے۔خدا تعالیٰ نے پیارومحبت کے جولطیف رشتے عطا فرمائے ہیں ان رشتوں کے ذریعہ وہ سکینت حاصل کریں جیسے خون کی نالیوں سے ہر طرف سے دل کو خون پہنچتا ہے وہ دل بن جائیں اور ہر طرف سے محبت کا خون اُن تک پہنچے اور جسم کے ہر عضو کو ان کی طرف سے سکینت کا خون پہنچے۔“ حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ صفحہ 75) ارشاد حضرت خلیفۃ ایسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پس جب شادی ہو گئی تو اب شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں نیک سلوک کریں۔ایک دوسرے کو سمجھیں ، اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہوئے ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو گے تو بظاہر ناپسندیدگی ، پسند میں بدل سکتی ہے اور تم اس رشتے سے زیادہ بھلائی اور خیر پاسکتے ہو۔