شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 85
کی باتیں قرار دیا ہے۔اور پھر ان کی یہ بھونڈی تاویل بھی کی ہے کہ شیخ اکبر کی مراد اس سے برائے نام کمالات نبوت کا منا ہے حالانکہ شیخ اکبر اسے جیسا کہ اُن کی عبارتوں سے۔قبل ازیں دیکھایا گیا ہے اسے نبوت مطلقہ قرار دیتے ہیں۔اور ان امتی انبیاء کے متعلق صاف لکھ رہے ہیں کہ وہ شریعت کے بغیر نبوت کا درجہ پاتے ہیں۔اور ان میں نبوت متحقق ہوتی ہے۔اگر تھوڑی دیر کے لے فرض کر لو کہ شیخ اکبر نے یہ سب دتل معنا ان عالم مسکر میں لکھے ہیں تو اب سوال یہ پیا ہوتا ہے کہ جو کچھ حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے کہا ہے وہی حضرت پیران پیر سید عبد القادر جیلانی نے فرمایا ہے وہ ان انبیاء الاولیاء کو نبوت میں پورا حقدار قرار دیتے ہیں کیا بھی سر کی باتیں ہیں ؟ پھر امام شعرانی علیہ الرحمہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مطلق نبوت بند نہیں، صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے کیا یہ بھی سکہ کی باتیں ہیں؟ اور پھر حضرت مولانا روم علیہ الرحمہ نے جو یہ فرمایا ہے۔فکر کن در راه نیکو خدمتے تا نبوت یابی اندر اُتنے کیا یہ بھی عالم سکر میں ہی فرما گئے ہیں ؟ اگر ان بزرگوں کی یہ سب کر کی باتیں ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے کہ یہی مضمون بزرگ فقیہ امام علی القادری نے بھی اپنے ایک فقرے میں بیان فرما دیا ہے۔چنانچہ وہ خاتم النبیین کے معنے یہ بیان فرماتے ہیں " المعنى أنه لا ياتي بَعْدَهُ نَى يَنْسَهُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُن مِنْ أُمَّتِهِ : (موضوعات کبیر شد یعنی خاتم النبیین کے یہ سنتے ہیں کہ آئندہ ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا جو شریعت محمدیہ کو منسوخ کرے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہ ہو۔اور پیر شاہ پور عالم اور فقیہ مولوی عبد الھی صاحب لکھنوی تحریر فرماتے ہیں :