شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 73
نہیں کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود نبی اللہ نہیں ہوگا۔جب سیح موعود نبی اللہ ہے تو پھر جماعت احمدیہ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علی السلام کو مسیح موجود ماننے کی بناء پر اور امتی نبی سمجھنے پر ختم نبوت کا منکر قرار دینا صریح تحکم اورظلم ہوگا۔اگر جماعت احمدیہ ختم نبوت کی منکر ہے تو تمام مسلمان فرقے اور علماء اور بزرگان دین جو حضرت عیسی بنی اللہ کی آمد کو جائز بلک ضروری قرار دیتے ہیں ، کیوں ختم نبوت کے منکر نہیں ؟ چونکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک غیر تشریعی نبی کی آمد کا عقیدہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے جس سے جماعت احمدیہ کا بھی اتفاق ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کے بعد اتنی نبی کی آمد کا عقیدہ ختم نبوت کے منانی نہیں۔اور اس کی بناء پر ہرگزہ جماعت احمدیہ کو ختم نبوت کا منکر قرار نہیں دیا جاسکتا۔غیر احمدیوں کا متضاد عقب تعجب ہے کہ ایک طرف تو بعض دوسرے علماء آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کو خاتم النبيين بمعنی آخری نبی حسب قرأت حاتم النبيين بفتح التاء اور لیموں کا ختم کرنے والا حسب قرات خَامَ KANGAN: بكسر التاء قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ عقبہ بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وکم کے بعد ضرور آسمان سے نازل ہوں گے۔حالانکہ اس طرح محض آخری نبی تو حضرت عیسی علیہ السلام بن کر خاتم النبیین ہو گئے۔محض آخرکی نہیں تو انہیں مانتا ہی پڑے گا۔جیسا امام عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ الیواقیت والجواہر جلد ۲ ۲۲ میں لکھتے ہیں :