شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 74 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 74

ي الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ نُوَّاب لَه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَّدْنِ آدَمَ إِلَى آخِرِ الرُّسُلِ وَهُوَ عِيْلى عَلَيْهِ السَّلَامُ " ینی تمام انبیاء کرام علیہم السلام آدم سے لے کر آخری رسول علی علی اسلام ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہیں۔۔۔اس جگہ اگر یہ کہا جائے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری بی لحاظ میں دانش میں تو دوسری قرأت خاتم النبین ان معنوں کو قائم نہیں رہنے دیتی۔کیونکہ اس کے معنی غیر احمدی علماء نبیوں کو ختم کرنے والا لیتے ہیں۔اب اگر بالفرض حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہوں اور وہی دوبارہ آئیں گے تو اُن کا فیض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ضرور جاری ہوگا۔انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ تم نے کیا ختم کیا ؟ پس اگر خاتم النبیین کی قرآہ کے حقیقی معنے ختم کرنے والا ہیں تو پھر حضرت عیسی والا تو علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا محال ہے۔کیونکہ اس صورت میں ان کو بھی ختم شدہ ہونا چاہئیے۔اور وہ تبھی ختم شدہ قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ اس دُنیا میں اب اُن کی زندگی کا کوئی حصہ باقی نہ ہو۔نہ جسمانی زندگی کے لحاظ ہے۔نہ اُن کا فیض جاری ہونے کے لحاظ سے۔حدیثوں میں اگر مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے تو اُن میں اسے اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ (صحیح بخاری) یا فامكم منكم د سیم مسلم ہو کر ایک امتی فرد ہی قرار دیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ایک روحانی فرزند کو استعارہ کے طور پر ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔ایہ ظاہر ہو کہ امت محمدیہ کا یہ موخود امام آخر الزمان