شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 7 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 7

بشریہ عاجز ہیں ، اور جس طرح ہر ایک حیات خدا تعالیٰ کی حیات مستفاض اور ہریک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہر یک تعیین اس کی تعیین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمد یہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں باذنہ تعالیٰ حسب استعدادات مختلفہ وطبائع متفاوتہ موثر ہے۔“ ۱ ۱۹) دسرمه چشم آریه شده ۱ تا ۱۰ ایڈیشن جدید و ف۲۲ تا ۲۳۳ ایڈیشن قدیم ) اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمد بلال سلام کے نز دیک سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات میں ایسی بلند شان اور اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں جس میں کوئی دوسرا آپ کا حقیقی طور پر شریک نہیں۔آپ کے نزدیک تمام انبیاء و اولیاء کے ظہور میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطۂ نفسی بطور علت غائیہ کے موثر رہا ہے۔انبیائے سابقین اصالتا اور براہ راست نبی ہونے کے باوجود حسب استعدادات مختلفہ وطبائع متفاوتہ آپ کے نقطۂ نفسی سے متاثر ہوئے ہیں جس طرح کہ صاحب فائیہ اپنی علت غائیہ سے متاثر ہوتا ہے اور اس علت ضائیہ کا ایک فیض ہوتا ہے۔کیو نکہ علت غائیہ بھی ایک مبداء کی حیثیت رکھتی ہے۔ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم جسمانی میں ظہور کے بعد چونکہ آپ کے ذریعہ شریعیت کا ملہ آچکی ہے۔لہذا اب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے ستفیض ہونے کے لئے آپ کی شریعت کی پیروی کا واسطہ بھی شرط ہو گا اور اس طرح آپ کا وجود بواسطہ شریعیت کاملہ ایک رنگ میں بطور علت فاعلیہ کے بھی موثر ہوگا جیسے وہ بطور علت نمائیہ کے موثر رہا ہے۔پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حقیقۃ الوحی شما و 114 میں تحریر فرماتے ہیں :-