شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 6
ور رسل و ارباب صدق و صفا بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسیر کمالات کے اعلی وارفع و اخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں۔ہاں اتباع اور پیروی سے نسلی طور پر شریک ہو سکتا ہے۔اب جاننا چاہئیے کہ در اصل اسی نقطۂ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے۔جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا منبع واصل ہے۔اور در حقیقت اسی ایک نقطہ سے خط و تر انبساط وامتداد پذیر ہوا ہے۔اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہوتیت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے۔عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں اس کا اول و علی مظہر میں سے وہ علی وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات اہل اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبی و محمد مصطفی نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور اسی نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو ہم نظم کو دوسرے اسماء الہیہ کی طرف نسبت واقع ہے۔غرض سر چشمه رموز غیبی و مفتاح کنوز لاری اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے۔اور تمام اسرایی مبداء و معاد کی علت غائی اور ہر یک زیر و بالا کی پیدائش کی لیمیت یہی ہے جس کے تصور بالکنہ و تصور بجنہہ سے تمام عقول و افہام