شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 8
پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نی جس کا نام محمد ہے ہزار ہزارہ درود و سلام اس پہ ، یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیا می شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا ہی لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اسکے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی اور اسکی مرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر حشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے۔کیونکہ سر یک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے ہو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نجی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میستر آیا ہے اس آفتاب ہدایت کی شعاع دُھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں “ (حقیقة الوحی شا) و (۱۶)