شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 44
کیا ہے۔باوجودیکہ نبوت اس صاحب مقام کو حاصل ہوتی ہے تا کہ کوئی خیال کرنے والا یہ خیال نہ کر ہے کہ اس لفظ کا بولنے والا شریعت والی نبوست مراد لیتا ہے۔اور اس طرح غلطی میں نہ پڑ جائے " اسی طرح فتوحات مکیہ جلد ۳ مش۵۶ میں فرماتے ہیں :- فَمَا تُطْلَقَ النُّبوَةُ المَنِ اتَّصَفَ بِالْمَجْمُوع فَذَلِكَ النَّبِيُّ وَتِلْكَ النُّبُوَةُ حُجرَتْ عَلَيْنَا وَ انْقَطَعَتْ وَمِنْ جُمْلَتِهَا التَّشْرِيمُ بِالْوَفِي الْمَلكي فذلِكَ لَا يَكُونُ إِلَّا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةٌ » یعنی النبوۃ “ کا اطلاق اسی شخص کے لئے ہوتا ہے جو النبوۃ العینی اجزاء نبوت) کے مجموعہ سے متصف ہو۔پس یہ النبی اور یہ النبوۃ روکی گئی ہے! یہی منقطع ہوئی ہے۔اس النبوة میں شریعت والی وحی شامل ہے۔جو خاص طور پر النبی کو ملتی ہے۔یعنی غیر تشریعی نبی کو نہیں ملتی۔پس حضرت محی الدین ابن عربی وغیرہ صوفیاء کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ النبی اور النبوة کا لفظ عرفاً چونکہ شارع نبی سے مخصوص ہو گیا تھا اس لئے غیر تشریعی انبیاء کے لئے انبیاء الاولیاء کی اصطلاح اختیار کی گئی جو ایک مرکتب لقب ہے۔تاکہ النبی اور القبول کے الفاظ کے استعمال کو کوئی شخص تشریعی نبوت کا دعولی خیال کر کے غلطی میں نہ پڑجائے۔ورنہ نبوت غیر تشریعی اُس نبی میں پائی جاتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بھی فرماتے ہیں :-