شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 45
۴۵ میں صرف بنی نہیں کہ لا سکتا۔بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اتنی۔اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا۔ایسا ہی میرا نام اتنی بھی رکھا ہے۔تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے کیا (حقیقة الوحی حاشیہ منشا ) اسی طرح آپ نے اپنی اُمتی یا رفتی یا بروزی نبوت کے لحاظ سے اپنے متعلق اتنی نبی یا ظلی نبی یا به دوزی نبی کی اصطلاحات استعمال فرمائی ہیں۔نا معلوم ہوتا رہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور افاضہ روحانیہ کی برکت سے مقام نبوت پایا ہے۔اور تاکسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ آپ تشریعی بنوت یا مستقلہ نبوت کے مدعی ہیں۔حضرت ولی اللہ صاحب محدث دہلوی علیہ رحمتہ خداتعالی کی تفہیم کے ماتحت تفہیمات الہیہ تنظیم ۵۳ میں تحریر فرماتے ہیں :- خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ أَي لَا يُوجَدُ مَنْ يَأْمُرُهُ اللهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيْمِ عَلَى النَّاسِ » دو یعنی خاتم النبیین کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں پایا جائیگا جس کو خدا تعالیٰ شریعت دے کر لوگوں کی طرف مامور کرے یا پھر حضرت عبد الکریم جیلی خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔