شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 23 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 23

۲۳ اسلام کی عام معروف اصطلاح میں استعمال ہوئے ہیں نہ کہ اسلام کی عرف خاص والی اصطلاح میں عرب خاص والی اصطلاح نبوت جو حدیث إِلَّا الْمُبشرات ، اور اُس حدیث سے ماخوذ ہے نہیں کے رو سے امت محمدیہ کے مسیح موعود کو ہی اللہ قرار دیا گیا ہے ، ان انقطاع نبوت والی احادیث میں مد نظر نہیں۔میں جب انقطاع نبی اور انقطاع نبوت الی احاديث كو حديث لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِرَات کے مقابلہ میں اور یح موعود نبی اللہ کے ظہور سے تعلق رکھنے والی حدیث کے مقابلہ یں رکھ کر دیکھا جائے تو شا حدیث لا نجی بعدی کی تقدیر کام لا تي بعدِى الْأَصَاحِبُ الْمُبشرات ہوگی کہ میر بعد المبشرات والے نبی کے سوا کوئی نبی نہ ہوگا۔اور حدیث انَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبوَلَا قَدِ انْقَطَعَتْ کی تقدیر كلام انَ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ الَّا نُبُوَّةُ الْمُشِرَاتِ ہوگی۔یعنی رسالت و نبوت سوائے مبشرات والے حسنہ نبوت یا قسم نبوت کے منقطع ہو چکی ہے۔اور اس طرح امت محمدیہ کا بیج موعود صرف دوسری اصطلاح میں نبی کہلائے گا۔جس کا تعلق امت محمدیہ کے اندر باقی رہنے والی نبوت سے ہے۔یعنی وہ مبشرات والی نبوت رکھنے کی وجہ سے بھی اللہ کہلائے گا کیونکہ مستقل بی اور شرعی نی کی آمد کو آیت خاتم امنیتی اور حدیث زیر بحث کے الفاظ لم يبقَ مِنَ النُّبُوَّة منقطع قرار دے رہے ہیں چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے مصرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شریف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔یہ نہیںکہ وہ کوئی دوسری شریعیت لاوے کیونکہ شریعیت آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم پر ختم ہے تجلیات الہیہ حاشیہ)