شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 24 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 24

میں بتا چکا ہوں کہ حدیث نبوی الحَسَنَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ کی موجودگی میں امت محمدیہ کے سیم وجود کو نبوت کی پہلی اور عرف عام والی اصطلاح میں نبی اللہ قرار نہیں دیا جا انا کیونکہ یہ نبوت حضرت صلی اللہ علیہ سلم کے بعد مقطع ہوچکی ہے۔بلکہ صرف دوسری اصطلات خاص ہیں ہی نبی اللہ قرار دیا جا سکتا ہے۔یعنی مبشرات کا اتنا معتد بہ اعظیم الشان حصہ پانے والا کہ خدا تعالی اسے اس کی وجہ سے نبی کا نام دے۔باقی تسلسلہ احمدیہ کے دعوای کی نوعیت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعوی چونکہ مسیح موعود کا ہے اور امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کو حدیث میں نبی اللہ قرار دیا گیا ہے۔اس لئے آپ اپنی نبوت کی نوعیت یوں بیان فرماتے ہیں :۔میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ یں نعوذ باللہ حضرت صلی الہ علیہ کم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوی کرتا ہوں۔یا کوئی ئی شریعیت لایا ہوں۔صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں یہیں یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔یعنی آپ لوگ میں امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام محکم انہی نبوت رکھتا ہوں۔ولكل أن يَصْطَلِحَ " تتمة حقيقة الوحى مثل ( اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو اسلام کی عام معروف تعریف میں نبوت کا کوئی دعوی نہیں۔بلکہ ایک دوسری خاص اصطلاح میں دعوی ہے۔