شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 186
کیا ضرورت ہے۔اگر وہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو اتم انہیں ان منوں میں فرامر دیتا ہے کہ آپ نبوت کے مراتب کے حصول میں انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے ہیں۔توی کسی قسم کا مبالغہ نہیں ہوگا۔بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہوگا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا ریب افضل النبیین ہیں۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔مولوی محمد ادریس صاحب کے نزدیک اگر افضل النبیین معنے لئے جائیں تو جیسا کہ میں ان کی عبارت پیش کر چکا ہوں خاتم النبیین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت نہیں رہتی۔بلکہ حضرت موئی اور عیسی علیہم السلام بھی ان معنوں میں خاتم النبیین بن جاتے ہیں۔- اس کے متعلق عرض ہے کہ ہم اس جگہ النبیین کا الف لام استغراق کا تسلیم کرتے ہیں۔اس لئے مراد یہ لیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں۔اور یہ خصوصیت نہ حضرت موسی علیہ السلام کو حاصل ہے نہ حضرت علی علیہ السلام کو۔اس لئے یہ دونوں بہی ان معنوں میں خاتم النبیین قرار نہیں پاسکتے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہیں کوئی نقل پیدا نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ دونوں نبی تمام انبیاء کے کمالات کے جامع اور نبوت میں انتہائی مقام پر پہنچے ہوتے نہیں۔ان کو کوئی خاتم النبین کہدے تو البتہ یہ شاعرانہ مبالغہ ہو گا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے نہ ان دونوں نبیوں کو خاتم النبین کہا ہے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کو۔کیونکہ افضل النبیین در حقیقت سرور کائنات فخر موجودات سيد الاصفياء والانقياء حضرت محمد مصطفے استی اللہ علیہ وسلم کاہی وجود باجود ہے لاغیر۔